قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی قرارداد منظور، اجلاس جمعہ تک ملتوی

قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی۔ قرارداد کی منظوری کے بعد ایوان کا اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

ایمرجنسی کی توثیق کے لیے قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔ کارروائی کے دوران اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی کی، جبکہ قرارداد پر ہونے والی بحث میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں نے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

بحث کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم پر زور دیا کہ مذاکرات کا راستہ دوبارہ اختیار کیا جائے تاکہ معاملے کا کوئی قابلِ قبول حل تلاش کیا جاسکے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے آئینی اختیارات اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کو منظوری کے لیے 10 روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرنا لازم ہے۔

وزیر قانون نے ایمرجنسی کے فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، امن و امان کی خراب صورت حال اور سرحد پار سے دراندازی کے خدشات کے باعث یہ قدم اٹھایا گیا۔ ان کے پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے 2 ہزار 911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد بڑھ کر 3 ہزار 787 ہوگئی۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ گورنر خیبرپختونخوا صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کی سنگین صورت حال پر طویل عرصے سے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گورنر نے انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دیے جانے کی شکایت بھی کی تھی اور اس حوالے سے صدر مملکت اور وزیراعظم کو خطوط کے ذریعے آگاہ کیا گیا تھا۔

وزیر قانون نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سکیورٹی چیلنجز کے باوجود سیاسی سرگرمیوں اور دیگر شہروں کے دوروں کو اہمیت دی گئی۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپناتے ہوئے سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کے ساتھ شہادتوں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے، جبکہ مسلح افواج، پولیس اور عام شہری اس جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کی کارروائی مکمل ہونے پر اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔