برطانیہ میں بچوں کی کنیتوں کا رجحان بدلنے لگا، خان، احمد اور علی مقبول ناموں میں شامل

برطانیہ میں نومولود بچوں کے لیے کنیتوں کے انتخاب میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ خان، احمد اور علی جیسی کنیتیں مقبول ترین ناموں کی فہرست میں اوپر آگئی ہیں، جبکہ ٹیلر، براؤن اور جانسن سمیت کئی روایتی برطانوی کنیتوں کا استعمال کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق دفتر برائے قومی شماریات کے اعداد و شمار میں انگلینڈ اور ویلز میں بچوں کی کنیتوں کے رجحانات کا گزشتہ تین دہائیوں سے موازنہ کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1996 میں سمتھ، جونز اور ولیمز جیسی کنیتیں عام طور پر استعمال ہونے والی کنیتوں میں نمایاں مقام رکھتی تھیں۔

تازہ فہرست میں سمتھ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ خان دوسرے، احمد تیسرے اور علی چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ حسین، سنگھ، پٹیل اور کور جیسی کنیتیں بھی مقبول کنیتوں میں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 30 برسوں کے دوران خان، احمد اور علی کی مقبولیت میں تقریباً دو گنا اضافہ ہوا، جبکہ سنگھ اور کور کے استعمال میں پانچ گنا تک بڑھوتری ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس جونز کنیت کے استعمال میں 43 فیصد کمی سامنے آئی۔ سمتھ کنیت رکھنے والے بچوں کی تعداد بھی 7 ہزار 276 سے گھٹ کر 4 ہزار 102 رہ گئی۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں بچوں کو دی جانے والی کنیتوں کے تنوع میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2025 کے دوران 23 ہزار 400 سے زیادہ مختلف کنیتیں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ 1996 میں یہ تعداد 21 ہزار 600 سے زائد تھی۔ گزشتہ سال ایک ہزار سے زیادہ بچوں کو صرف 23 مختلف کنیتیں دی گئیں، اس کے مقابلے میں 1996 میں ایسی کنیتوں کی تعداد 57 تھی۔

رپورٹ میں بچوں کے پہلے ناموں سے متعلق اعداد و شمار بھی شامل ہیں۔ اس کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں محمد مسلسل تیسرے سال لڑکوں کا مقبول ترین نام رہا، جبکہ 2025 میں مجموعی طور پر 5 ہزار 957 نومولود لڑکوں کا نام محمد درج کیا گیا۔