پشاور اسکول سانحہ: جاں بحق بچوں کی شناخت ہوگئی، اسکول مالک زیرِ حراست
پشاور میں اسکول کی عمارت منہدم ہونے کے افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جانیں گنوانے والے بچوں کی عمریں 6 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق 33 لاشیں لیڈی ریڈنگ اسپتال جبکہ 2 لاشیں نصیراللہ بابر میموریل اسپتال منتقل کی گئیں۔ جاں بحق بچوں میں حلیمہ، زکریا خان، مدیحہ، موسیٰ، ابراہیم، کاشف نجیب، اعظم، عبدالبصیر، عظیم اللہ، زبیر خان، شاکراللہ، احمدان، ابوذر، ساحل خان، محمد، مبشر، حمید، ابرار، صنم خان، عثمان، اویس، عزیر اور عمران سمیت دیگر بچے شامل ہیں۔
انچارج ریسکیو بلال احمد کے مطابق ملبے سے اب تک 40 سے زائد بچوں کو نکالا جاچکا ہے۔ جائے حادثہ پر 16 ایمبولینسیں اور ریسکیو اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو ٹیموں کو صبح 8 بج کر 48 منٹ پر اطلاع ملی اور عملہ پانچ منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گیا۔ ان کے مطابق امدادی آپریشن تقریباً 95 فیصد مکمل ہوچکا تھا۔
سی سی پی او پشاور میاں سعید نے بتایا کہ تین منزلہ عمارت میں مختلف سطحوں پر تین کلاس روم قائم کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق نچلی منزل کے کلاس روم میں 45، درمیانی حصے میں 40 جبکہ بالائی کلاس روم میں 30 بچے موجود تھے۔ پولیس نے اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا ہے اور مقدمہ درج کرکے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
اسکول میں زیرتعلیم طلبہ کے مطابق پہلے پیریڈ کے بعد اچانک زور دار آواز سنائی دی، جس کے فوراً بعد تینوں کلاس روم منہدم ہوگئے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسکول میں پلے گروپ سے نویں جماعت تک تقریباً 400 بچے زیرتعلیم تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔