چین اور شمالی کوریا کے درمیان تجارتی رابطے کے لیے اہم پل کھول دیا گیا
چین اور شمالی کوریا کے مابین تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے لیے تقریباً 3 کلومیٹر طویل پل ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے دونوں ممالک کے درمیان سامان کی نقل و حمل اور تجارتی سرگرمیوں میں سہولت پیدا ہونے کی توقع ہے۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق یہ پل چین کے شہر ڈانڈونگ کو شمالی کوریا کے شہر سنوئیجو سے ملاتا ہے۔ منصوبہ ابتدائی طور پر 2014 میں مکمل ہونا تھا، تاہم تعمیراتی سرگرمیوں میں تعطل کے باعث اس کی تکمیل میں طویل تاخیر ہوئی۔
جنگ کی رپورٹ کے مطابق چینی وزیرِاعظم لی چیانگ نے پل کے افتتاح کو دونوں ممالک کے تعلقات، تجارت اور معاشی تعاون کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران چین اور شمالی کوریا کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 2.7 ارب ڈالر رہا۔ نئے پل کے فعال ہونے سے بھاری مشینری، توانائی سے متعلق مصنوعات اور خام مال کی ترسیل زیادہ آسان ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق پل کھلنے سے تجارتی رابطوں میں بہتری تو آ سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود پابندیوں سے پہلے کی تجارتی سطح فوری طور پر بحال ہونے کا امکان کم ہے۔
دوسری جانب شمالی کوریا کی حکومت کی جانب سے پل کھولے جانے کے معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔