وفاقی حکومت نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو عہدے سے ہٹانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ زیرِ غور نہیں۔
پارلیمنٹ میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے فیصل کریم کنڈی کو تجربہ کار پارلیمنٹیرین اور پختہ سیاسی شخصیت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر کی تبدیلی سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے انتظامی معاملات کی ذمہ داری سنبھال لی ہے اور عہدہ سنبھالنے کے بعد فوری طور پر ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد سیاسی مفادات کا حصول نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے خواہاں ہیں اور انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو بھی بات چیت کی دعوت دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اپوزیشن کی جانب سے مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق آئینی تقاضے مکمل کیے جا چکے ہیں اور اب ان اقدامات کے تحت اگلے مرحلے پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی بنیادی توجہ صوبے میں دہشت گردی کا خاتمہ اور مستقل امن کا قیام ہے۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی صورتحال قابو میں آنے کے بعد صوبے کے انتظامی معاملات دوبارہ صوبائی حکومت کے حوالے کر دیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا صوبائی انتظامی اختیارات کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں اور صوبے میں سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے امن و امان، دہشت گردی کے خاتمے اور ترقی کو وفاقی حکومت کی اہم ترجیحات قرار دیا۔
یاد رہے کہ پانچ روز قبل وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق سمری پر دستخط کیے تھے۔
دوسری جانب ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے دائر درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں۔ یہ درخواست چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔