طارق فضل چودھری کا مؤقف، خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ عدم تعاون کے باعث کیا گیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومت کی کوشش تھی کہ دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے، تاہم ان کے بقول خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تعاون نہ ملنے پر گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے بتایا کہ گورنر خیبرپختونخوا کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کمیٹی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی اہلکار اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت چاہتی تھی کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے، لیکن ان کے دعوے کے مطابق صوبائی حکومت نے افغانستان سے متعلق پالیسی پر بھی وفاق کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر دہشت گردی اور دہشت گرد عناصر کی مذمت نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے مؤثر تعاون کے بغیر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کامیابی سے آگے بڑھانا مشکل تھا۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اپنی آئینی ذمہ داریوں اور حلف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے اور خیبرپختونخوا میں امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، جبکہ قومی مفاد کو ہر معاملے پر فوقیت حاصل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 11 اکتوبر کو صدارتی فرمان کے ذریعے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا، جس کے بعد پارلیمنٹ سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدامات کی توثیق بھی کرائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بہتری اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔
طارق فضل چودھری نے الزام لگایا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے، جبکہ ان کے مطابق غیر ملکی عناصر بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی بھی معاونت کر رہے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔