کینیڈا سے علیحدگی کی تجویز البرٹا کے عوام نے مسترد کردی
کینیڈا کے صوبے البرٹا میں علیحدگی کے معاملے پر ہونے والے ریفرینڈم میں اکثریتی ووٹرز نے ملک کے ساتھ رہنے کی حمایت کی ہے۔ کینیڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق 76 فیصد سے زیادہ ووٹرز نے کینیڈا کا حصہ برقرار رہنے کے حق میں رائے دی، جبکہ تقریباً 23 فیصد نے علیحدگی کی حمایت کی۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے عوامی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ البرٹا کے شہریوں نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کا انتخاب کیا ہے۔ ان کے مطابق اب ملک کو مل کر آگے بڑھانے کے لیے کام کیا جائے گا۔
البرٹا کو دنیا کے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر رکھنے والے علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ صوبے میں علیحدگی کی تحریک کو وفاقی حکومت کی توانائی اور تیل کے شعبے سے متعلق پالیسیوں پر پائی جانے والی ناراضی سے تقویت ملی ہے۔
علیحدگی کے حامی بعض شہریوں کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت کے اقدامات صوبے کی توانائی کی صنعت اور معاشی مفادات کو متاثر کرتے ہیں۔ تاہم ریفرینڈم کے نتائج میں واضح اکثریت نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کی