شیر افضل مروت کا ناانصافی کے ازالے تک آگے بڑھنے سے انکار، دہشت گردی کے خلاف سیاسی اتحاد پر زور
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل خان مروت نے کہا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو سراہنے کے بجائے ان کی تذلیل کی جائے تو ان کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ ہونے تک وہ مزید سیاسی پیش رفت کے لیے تیار نہیں ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکنوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف انہیں مزید عزم کے ساتھ جدوجہد کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کے مطابق جب کارکن مشکل وقت میں قربانیاں دیں اور بدلے میں انہیں عزت دینے کے بجائے تضحیک کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وہ مشکل حالات میں پارٹی کے لیے سرگرم رہے، تشدد کا سامنا کیا اور مختلف مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے قربانیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مشکل وقت میں ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا گیا، لیکن اب ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر پارٹی قیادت ان سے رابطہ کرتی ہے، جرگے کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ان کے تحفظات دور کیے جاتے ہیں تو وہ دوبارہ قیادت کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان سے ماضی میں متعدد غلط فیصلے کروائے گئے، جن کے منفی اثرات بانی پی ٹی آئی اور پارٹی دونوں کو برداشت کرنا پڑے۔
دوسری جانب شیر افضل مروت نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ آرمی چیف، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ پشاور کا دورہ کریں اور تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر جمع کرکے ان کے مؤقف اور تجاویز سنیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داریاں قبول کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ شیر افضل مروت کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق اور مربوط اقدامات کے بغیر دہشت گردی کے مسئلے کا دیرپا حل تلاش کرنا مشکل ہوگا۔