پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 200 ملین ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق
پاکستان اور مالدیپ نے آئندہ دو برس کے دوران باہمی تجارت کا حجم 13 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک نے تجارت، معیشت، دفاع، تعلیم، صحت اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 11 سال کے وقفے کے بعد مالدیپ کے صدر کا دورۂ پاکستان خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں مثبت اور تعمیری رہیں، جن میں اقتصادی تعاون اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے اپنی کوششوں میں تیزی لائیں گے۔ پاکستان مالدیپ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تکنیکی معاونت بھی فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مالدیپ کے متعدد طلبہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی ڈاکٹرز اور طبی معاون عملہ مالدیپ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔
شہباز شریف نے مفاہمتی یادداشتوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مالدیپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
اس موقع پر مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ بزنس فورم دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی روابط کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں تعلیم، صحت، تجارت اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاملات زیرِ غور آئے۔
صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے مطابق دونوں ممالک نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام کے تحت وفود کی آمدورفت میں اضافہ کریں گے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل نظام اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کو موجودہ دور کی اہم ضرورت قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کی جانب سے فنی معاونت کے پروگرام کے ذریعے باہمی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
مالدیپ کے صدر نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو دونوں ممالک کی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھا کر مشترکہ تعاون کو نئی سطح پر لے جانا ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کے فروغ اور باہمی شراکت داری کے نئے امکانات سے استفادے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔