گیس کی قلت اور ایل پی جی مہنگی، کراچی، لاہور اور پشاور میں شہری مشکلات کا شکار

ملک کے مختلف شہروں میں سوئی گیس کے کم پریشر اور لوڈشیڈنگ نے عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں، جبکہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو اخراجات پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔

کراچی میں ایل پی جی فی کلو 100 روپے مہنگی ہونے کے بعد اس کی قیمت 450 روپے سے بڑھ کر 550 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سرکاری نرخ تقریباً 280 روپے فی کلو بتائے جا رہے ہیں۔

لاہور میں سردیوں کی آمد سے قبل ہی گیس کی قلت نے شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ ناشتے سے لے کر رات کے کھانے کی تیاری تک گیس کی عدم دستیابی کے باعث گھریلو امور متاثر ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی 500 سے 700 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کھانا خریدنے کے لیے ہوٹلوں اور تندوروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے ماہانہ اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے اور گھریلو بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔

پشاور میں بھی ایل پی جی کی قیمت میں فی کلو 100 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پہلے 450 روپے فی کلو فروخت ہونے والی گیس اب 550 روپے میں دستیاب ہے۔

گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ لکڑی بھی مہنگی ہوگئی ہے۔ لکڑی کی فی من قیمت میں 200 سے 300 روپے تک اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پہلے 1400 سے 1600 روپے میں ملنے والی لکڑی اب 1600 سے 1800 روپے فی من فروخت ہو رہی ہے۔

گیس کی قلت اور متبادل ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث شہریوں کو کھانا پکانے سمیت روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں اضافی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔