گوگل تھنک ایپس 2026 کا لاہور میں انعقاد، پاکستانی ڈویلپرز کے لیے مصنوعی ذہانت کے نئے امکانات پر گفتگو
گوگل کے زیرِ اہتمام تھنک ایپس 2026 کا انعقاد لاہور کے تاریخی شاہی قلعے میں ہوا، جس میں پاکستان کی ایپ اور گیمنگ انڈسٹری سے وابستہ ماہرین، ڈویلپرز اور عالمی و علاقائی شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل اس تاریخی مقام پر منعقدہ تقریب کا مقصد جدید ٹیکنالوجی اور ثقافتی ورثے کو یکجا کرتے ہوئے ڈیجیٹل صنعت کے مستقبل اور ترقی کے نئے امکانات کو نمایاں کرنا تھا۔
ایونٹ میں خصوصی طور پر اس امر پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت (AI) پاکستانی ایپ اور گیم اسٹوڈیوز کو عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ مضبوط بنانے، کاروبار کو وسعت دینے اور طویل مدتی ترقی حاصل کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
پاکستانی ایپس کی عالمی مقبولیت میں اضافہ
تقریب کے دوران بتایا گیا کہ پاکستانی ڈویلپرز کی تیار کردہ ایپس اور گیمز بین الاقوامی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ گزشتہ 12 ماہ میں مقامی ڈویلپرز کی مصنوعات دنیا بھر میں 4.6 ارب مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی گئیں، جو پاکستانی ڈیجیٹل مصنوعات کی بڑھتی ہوئی عالمی رسائی کا ثبوت ہے۔
اس پیش رفت کو پاکستان کی ڈیجیٹل برآمدات بڑھانے کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت میں ہونے والی تیز رفتار ترقی مقامی اسٹوڈیوز کو جدید مصنوعات تیار کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے اور عالمی مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے نئے راستے فراہم کر رہی ہے۔
شرکا نے ایسے عملی AI ٹولز، کاروباری منصوبہ بندی اور آمدنی پیدا کرنے کے مؤثر طریقوں پر بھی گفتگو کی، جن کے ذریعے اسٹوڈیوز اپنے کام کی رفتار اور معیار بہتر بنا سکتے ہیں، صارفین کی دلچسپی برقرار رکھ سکتے ہیں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مزید مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔
چند افراد سے 30 ہزار سے زائد پیشہ ور افراد تک کا سفر
پاکستان کی ایپ اور گیمنگ انڈسٹری نے گزشتہ برسوں میں نمایاں وسعت اختیار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابتدا میں 30 سے بھی کم افراد پر مشتمل یہ شعبہ اب 30 ہزار سے زائد پیشہ ور افراد کے لیے کام کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔
یہ ترقی پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں اور مقامی ٹیلنٹ کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ گیم ڈسٹرکٹ (Game District) اور فن سول (Funsol) جیسے پاکستانی اسٹوڈیوز اس صنعت کی نمایاں مثالیں ہیں، جن کی کاروباری سرگرمیوں اور ترقی کا دائرہ ملکی مارکیٹ سے آگے عالمی صارفین تک پھیلا ہوا ہے۔
گوگل کے پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور فرنٹیئر مارکیٹس کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت پاکستانی ڈویلپرز کو عالمی سطح پر مسابقتی کاروبار قائم کرنے اور ڈیجیٹل صنعت میں پائیدار مقام بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈویلپرز کی بین الاقوامی کامیابیاں ان کی صلاحیتوں اور بلند عزائم کی عکاس ہیں۔ گوگل جدید AI ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرکے اس پیش رفت کو مزید آگے بڑھانا چاہتا ہے، تاکہ مقامی اسٹوڈیوز عالمی معیار کی مصنوعات تیار کریں، اپنے کاروبار کو مستحکم بنائیں اور بین الاقوامی ڈیجیٹل معیشت میں پاکستان کا کردار بڑھائیں۔
مصنوعی ذہانت سے کاروباری ترقی کے نئے راستے
ایپ اور گیم ڈویلپرز کو اس وقت بڑھتے ہوئے مقابلے اور نئے صارفین حاصل کرنے پر آنے والے اخراجات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں مصنوعی ذہانت کوڈنگ کے مراحل تیز کرنے، تخلیقی مواد تیار کرنے اور صارفین کی ضروریات کے مطابق بہتر ایپلی کیشنز بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
تاہم، ماہرین کے مطابق صرف جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنا کافی نہیں، بلکہ مصنوعات کا معیار بلند رکھنا اور صارفین کو ایسا بہتر تجربہ فراہم کرنا بھی ضروری ہے جو انہیں طویل عرصے تک ایپ سے منسلک رکھ سکے۔
گوگل نے اس سلسلے میں Build, Yield and Scale کے روڈ میپ کے ذریعے ڈویلپرز کو کاروبار کے مختلف مراحل میں معاونت فراہم کرنے کے طریقے پیش کیے۔ گوگل کلاؤڈ AI کے ذریعے مصنوعات کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ گوگل ایڈز اور ایڈ موب صارفین تک رسائی بڑھانے اور ایپس سے آمدنی حاصل کرنے کے ذرائع فراہم کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ، نئی کیٹیگریز میں داخل ہونے اور عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کو بھی کاروباری توسیع کے اہم مواقع قرار دیا گیا۔ گوگل پلے کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد تین ارب سے زیادہ ہے، جو ڈویلپرز کو دنیا بھر میں وسیع صارف مارکیٹ تک پہنچنے کا امکان فراہم کرتی ہے۔
نوجوان ڈویلپرز کی تربیت اور ڈیجیٹل سہولتوں پر توجہ
گوگل نے پاکستان کی نئی نسل کو ڈیجیٹل معیشت کے لیے تیار کرنے کے اپنے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ کمپنی کے مطابق 2028 تک ایک لاکھ ڈویلپرز کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاکہ وہ جدید ایپس اور گیمز بنانے کے لیے درکار مہارتیں حاصل کرسکیں۔
اس کے ساتھ پاکستان میں پانچ لاکھ کروم بکس (Chromebooks) کی مقامی تیاری ممکن بنانے کے منصوبے کو بھی ڈیجیٹل تعلیم تک رسائی بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا۔
مزید برآں، گوگل کے ڈیجیٹل پاسبان (Digital Pasban) پروگرام کے تحت دو لاکھ خاندانوں کو آن لائن تحفظ کے بارے میں تربیت فراہم کی جاچکی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد نوجوانوں اور خاندانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ اور مؤثر انداز میں حصہ لینے کے لیے ضروری معلومات، مہارتیں اور ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
تھنک ایپس 2026 میں پیش کی گئی حکمتِ عملیوں سے واضح کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت، پیشہ ورانہ تربیت اور عالمی پلیٹ فارمز تک رسائی پاکستانی ایپ اور گیمنگ انڈسٹری کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، جبکہ اس شعبے کی توسیع ملک کی ڈیجیٹل برآمدات اور عالمی سطح پر شناخت کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔