سردیوں میں ایل این جی کی قلت کا خدشہ، مہنگی درآمد پر حکومت تاحال فیصلہ نہ کرسکی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث موسمِ سرما کے دوران پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ حکومت عالمی منڈی سے مہنگے داموں ایل این جی کے اسپاٹ کارگوز خریدنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے، کیونکہ نومبر سے فروری تک گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر تقریباً 2 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن نے سردیوں میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے امریکا، آذربائیجان اور دیگر ممالک سے ایل این جی کے 22 کارگوز درآمد کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ اس کے علاوہ 7 سے 10 اکتوبر کے دوران ہنگامی بنیادوں پر 12 کارگوز منگوانے کی منظوری بھی مانگی گئی، تاہم تاحال اجازت نہیں مل سکی۔ یوں موسمِ سرما کے لیے 2 ارب ڈالر مالیت کی ایل این جی درآمد کرنے کا معاملہ اب بھی زیرِ التوا ہے۔

قطر میں علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایل این جی سپلائی معاہدوں پر عمل درآمد روکنے کی مدت نومبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ اکتوبر کے دوران قطر سے ایل این جی کے دو کارگوز پاکستان پہنچ چکے ہیں، جن کے ذریعے گیس کی فراہمی بھی شروع ہوگئی ہے۔ معاہدے کے تحت قطری ایل این جی کی قیمت 14 سے 15 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) ہے، جبکہ عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں اس کی قیمت بڑھ کر 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی ہے۔

حکومت مہنگی ایل این جی کی خریداری سے گریز کر رہی ہے تاکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ نہ پڑے اور صارفین کو بھی بڑھتی ہوئی لاگت کا بوجھ برداشت نہ کرنا پڑے۔ تاہم، درآمدات میں تاخیر کے باعث سردیوں میں گیس کی قلت سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔

گیس کی دستیابی کم ہونے کی صورت میں صنعتوں، بجلی گھروں، کھاد ساز اداروں، سی این جی اسٹیشنوں اور سیمنٹ کی صنعت کو گیس کی فراہمی محدود یا مکمل طور پر بند کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ گھریلو صارفین کو بھی گیس لوڈشیڈنگ میں اضافے کا سامنا کرنا پڑنے کا خدشہ ہے۔

ادھر گیس کی طلب اور رسد میں توازن قائم رکھنے کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تیار کردہ لوڈ مینجمنٹ سمری ابھی تک کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ اس وجہ سے موسمِ سرما میں گیس کی تقسیم اور فراہمی سے متعلق حکومتی پالیسی کا حتمی فیصلہ بھی تاخیر کا شکار ہے۔