لاہور میں ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کی ہڑتال، گیس کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا
لاہور میں ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باعث شہر میں گیس کی فراہمی متاثر ہونے اور بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ہڑتال کے باعث مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی دکانیں بند ہیں، جبکہ ڈسٹری بیوٹرز نے مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
24 نیوز کے مطابق ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کا اجلاس ساندہ روڈ پر منعقد ہوا، جس میں ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں اجمل، صدر عبداللہ خان، صاحب نور، تحصیل خان، زرداد خان اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں دعویٰ کیا گیا کہ ہڑتال کے نتیجے میں لاہور کی تقریباً 95 فیصد دکانیں بند ہوچکی ہیں، جس سے شہریوں کو ایل پی جی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہڑتال ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کے خلاف کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایل پی جی کی ری فلنگ اور ڈیکینٹنگ کے خلاف جاری آپریشنز کے دوران دکانیں سیل کرنے کے ساتھ سامان بھی ضبط کیا جا رہا ہے۔ ڈسٹری بیوٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں اب تک تقریباً 14 کروڑ روپے مالیت کا سامان توڑا جا چکا ہے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے سرکاری اہلکاروں پر مبینہ طور پر رشوت اور بھتہ وصول کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ چیئرمین ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ کارروائیاں روک کر فریقین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے معاملے کا نوٹس لینے اور دکانوں کے لیے واضح، قابلِ عمل ضابطۂ کار (ایس او پیز) مرتب کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا مزید مطالبہ ہے کہ پیرا فورس، سول ڈیفنس اور بلدیہ کے اہلکاروں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں بند کی جائیں۔
ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ مطالبات پر پیش رفت تک ہڑتال جاری رہے گی، جبکہ دکانوں کی بندش کے باعث شہر میں ایل پی جی کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔