مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف یورپ میں احتجاج، مختلف شہروں میں جھڑپیں اور گرفتاریاں
یورپ کے مختلف ممالک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی ناہمواری کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔ کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
فرانس میں مہنگائی اور تعلیمی اصلاحات کے خلاف احتجاج کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔ اطلاعات کے مطابق پیرس میں تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار افراد نے مظاہرے میں شرکت کی، جبکہ لیون میں طلبہ اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی اور 135 افراد کو گرفتار کر لیا۔
ادھر اسپین کے شہر بارسلونا میں بھی بدامنی کے واقعات سامنے آئے، جہاں دکانوں میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات ملیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
اٹلی کے دارالحکومت روم اور میلان میں ہزاروں افراد نے کم اجرت، مہنگائی اور روزگار کے محدود مواقع کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے معاشی مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں بھی حکومت مخالف ریلی نکالی گئی، جس کے دوران پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور مرچوں کے اسپرے کا استعمال کیا۔