پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے

وزارتِ خزانہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 21.5 ارب ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر آگئے۔ اس عرصے میں برآمدات، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اور فری لانسرز کی آمدن میں 46 فیصد نمو ہوئی۔

وزارتِ خزانہ نے جولائی سے ستمبر 2026 تک کی معاشی کارکردگی پر مشتمل رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مدت کے دوران معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے آثار سامنے آئے۔ زرمبادلہ ذخائر میں سالانہ بنیاد پر 52 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 21.5 ارب ڈالر تک جا پہنچے۔

رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں ملکی برآمدات کا حجم 11.2 ارب ڈالر جبکہ ترسیلاتِ زر 10.9 ارب ڈالر رہیں۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ کر 72 کروڑ ڈالر ہوگئی۔ اسی دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کا مجموعی خالص بہاؤ 3 ارب 65 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا خالص اخراج ہوا تھا۔

اشیا، خدمات اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ

وزارتِ خزانہ کے مطابق اشیا کی برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی مالیت ساڑھے 8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ خدمات کی برآمدات 23 فیصد بڑھ کر 2 ارب 70 کروڑ ڈالر ہوگئیں، جبکہ آئی ٹی شعبے کی برآمدات 18 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 25 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فری لانسرز کی برآمدی آمدن میں 46 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 55 کروڑ ڈالر کی تاریخی بلند ترین ماہانہ سطح تک پہنچ گئی۔

ترسیلاتِ زر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے آنے والی مجموعی رقوم کا حجم 14 ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔

ٹیکس وصولیاں اور نجی شعبے کو قرضوں میں اضافہ

وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پہلی سہ ماہی میں 3.1 ٹریلین روپے کے ٹیکس جمع کیے اور مقررہ ہدف حاصل کرلیا۔ نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا حجم بھی بڑھ کر 11.28 ٹریلین روپے ہوگیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 16.6 فیصد زیادہ ہے۔

پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ برقرار

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تینوں بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی بی کیٹیگری میں برقرار رکھی ہے، جبکہ ملک کے معاشی آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا گیا ہے۔