کیپٹن (ر) محمد صفدر کا اعظم نذیر تارڑ اور احسن بھون سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور سینئر وکیل احسن بھون سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈگری سے متعلق تنازع حل ہونے تک وہ اس معاملے پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی کی ضلع کچہری میں مسلم لیگ (ن) لائرز فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا کہ انہوں نے وزیر قانون کو پیغام بھیجا تھا کہ مبینہ طور پر جعلی ڈگری رکھنے والے شخص کو امیدوار کے طور پر کیوں سامنے لایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مشروط طور پر دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں، لیکن اس سے پہلے متعلقہ ڈگری دکھانا ہوگی۔ انہوں نے پیشکش کی کہ ڈگری پیش کیے جانے پر وہ اپنا امیدوار واپس لینے اور معافی نامہ دینے پر بھی آمادہ ہیں۔
کیپٹن (ر) محمد صفدر نے احسن بھون سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ کو بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یکم نومبر کے بعد احسن بھون کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔
احسن بھون کی ڈگری کا معاملہ عدالتوں میں اٹھانے کا اعلان
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ احسن بھون جہاں بھی پیش ہوں گے، وہاں ان کے 100 وکلا اپنی ڈگریوں کے ساتھ موجود ہوں گے۔ ان کے مطابق وہ مختلف عدالتوں سے مطالبہ کریں گے کہ احسن بھون سے بھی تعلیمی اسناد طلب کی جائیں۔
انہوں نے وکلا پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں متحد ہو کر آگے بڑھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کی بالادستی ضروری ہے اور کسی بھی صورت ظلم پر مبنی نظام کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
عدالتی نظام اور آئینی ترامیم پر اظہارِ خیال
کیپٹن (ر) محمد صفدر نے اپنے خطاب میں عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عدالتوں اور ججوں کے بعض فیصلوں نے پاکستان کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے ڈن بیس کے اربوں روپے امریکہ اور یورپ منتقل ہونے کا ذکر بھی کیا اور سوال اٹھایا کہ ساجد تارڑ امریکہ میں رہتے ہوئے ارب پتی کیسے بن گئے۔
انہوں نے اپنے جیل جانے کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون کی پاسداری ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں جسٹس بھگوان داس سپریم کورٹ کے جج تھے اور ان کے بارے میں عمومی طور پر اطمینان پایا جاتا تھا۔
کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا کہ آئین میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ ترمیم کا اختیار جمہوری اداروں کو حاصل ہے اور ملک و آئین کے لیے مزید قربانیاں دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے ججوں کے انتخاب کے طریقہ کار میں ایک عالم کو شامل کرنے کی تجویز کا بھی ذکر کیا اور عدلیہ میں مذہبی شناخت سے متعلق اپنے خدشات بیان کیے۔
مریم نواز کے بیان اور پٹرول پمپ واقعے کا حوالہ
اپنے خطاب کے دوران کیپٹن (ر) محمد صفدر نے بتایا کہ انہیں کسی شخص نے کہا تھا کہ مریم نواز نے عدالتوں میں پیسے چلنے کی بات کی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ مریم نواز صوبے کی وزیراعلیٰ ہیں اور مستقبل میں وزیراعظم بھی بن سکتی ہیں، اس لیے ان کے بیان پر سوال اٹھانا فطری ہے۔
انہوں نے ایک ایسے نوجوان کا بھی ذکر کیا جس کی ماہانہ تنخواہ مبینہ طور پر 25 ہزار روپے تھی اور جس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیا تھا۔ کیپٹن (ر) محمد صفدر نے پٹرول پمپ پر نوجوان کو تھپڑ مارے جانے کے واقعے کو عوام کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اس معاملے میں کارروائی کرکے متاثرہ بچے کو انصاف دلانے کی کوشش کی۔