جعلی رجسٹریوں کا مقدمہ، لاہور ہائی کورٹ نے رجسٹری محرر اور رجسٹرار کی عبوری ضمانتیں خارج کردیں
لاہور ہائی کورٹ نے جعلی رجسٹریوں سے متعلق مقدمے میں رجسٹری محرر اور رجسٹرار کی عبوری ضمانتیں مسترد کردی ہیں، جبکہ عدالت نے محکمہ اینٹی کرپشن کے مجوزہ قواعد میں تبدیلی کی ہدایت بھی جاری کردی۔
روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سماعت کے دوران جعلسازی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ عمل باہمی ملی بھگت سے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی رجسٹریوں سے جائیداد کی قدر و قیمت متاثر ہوتی ہے، جبکہ بڑی تعداد میں ایسے معاملات سامنے آنے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
عدالت کے طلب کرنے پر ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمے کے نئے قواعد چیف سیکریٹری کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔ مجوزہ قواعد کے تحت انکوائری کا عمل چار ماہ کے اندر دوبارہ کھولنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت کو مزید بتایا کہ فوجداری مقدمات کی مؤثر پیروی کے لیے خصوصی پراسیکیوٹرز کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس مقصد کے لیے محکمہ اینٹی کرپشن میں پراسیکیوشن کے شعبے میں عارضی بھرتیاں بھی کی جائیں گی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں کے رجحان کا خاتمہ ضروری ہے۔