جھنگ کے ڈپٹی کمشنر عہدے سے فارغ، جیپ ریلی میں پیرا کی گاڑی کے استعمال پر کارروائی
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جھنگ کے ڈپٹی کمشنر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام تھل جیپ ریلی کے دوران پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی سرکاری گاڑی استعمال کیے جانے کے معاملے پر اٹھایا گیا، جسے انتظامی ضابطوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
انگریزی اخبار ڈان کے مطابق ضلعی انفارمیشن آفیسر جھنگ ریاض مارتھ نے بتایا کہ تین روزہ جھنگ تھل جیپ ریلی نجی اسپانسرز کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کے حکام نے بھی اس ایونٹ کو سراہا تھا۔
یہ معاملہ اس وقت زیرِ بحث آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں پیرا کی سرکاری گاڑی کو دیگر گاڑیوں کے ساتھ جیپ ریلی میں شریک دیکھا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کسی ریگولیٹری ادارے کے وسائل کو اس کے سرکاری دائرۂ کار سے ہٹ کر استعمال کرنا انتظامی نظم و ضبط اور حکومتی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔
مریم نواز نے اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ اسی معاملے کے پیشِ نظر جھنگ کے ڈپٹی کمشنر کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب حکومت کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن بھی شیئر کیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق گورنر کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر کا فوری تبادلہ کردیا گیا ہے اور انہیں آئندہ احکامات کے لیے متعلقہ محکمے میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پیرا کی گاڑی سیکیورٹی یا ریسکیو کے لیے تھی؟
سرکاری گاڑی کی ریلی میں موجودگی کے دفاع میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ اسے سیکیورٹی اور ریسکیو کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ تاہم وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سیکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کی ہے، جبکہ ہنگامی حالات میں امدادی سرگرمیاں ریسکیو 1122 کے دائرۂ اختیار میں آتی ہیں۔
ان کے مطابق یہ دونوں ذمہ داریاں پیرا کے قانونی فرائض میں شامل نہیں، اس لیے ریلی میں اتھارٹی کی گاڑی کی موجودگی کا اس کے سرکاری کام سے بظاہر کوئی تعلق نہیں بنتا۔ انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ سرکاری گاڑی کو اس تقریب میں بھیجنے کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔
پیرا کی گاڑیوں کے استعمال سے متعلق پہلے بھی ہدایات جاری
مریم نواز نے پیرا کے ڈائریکٹر جنرل فرخ عتیق خان کا 21 اکتوبر کو جاری کردہ خط بھی شیئر کیا، جو جیپ ریلی کے اختتام کے بعد ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری بورڈز کے چیئرپرسنز کو بھیجا گیا تھا۔
خط میں متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ پیرا کی سرکاری گاڑیوں کے مبینہ غیر مجاز استعمال کا جائزہ لیں۔ مراسلے کے مطابق پیرا کے فیلڈ آپریشنز کے لیے دفاتر کو فراہم کی گئی ڈبل کیبن گاڑیاں بعض مقامات پر غیر متعلقہ سرگرمیوں میں استعمال ہوتی پائی گئی ہیں۔
خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ بعض ڈپٹی کمشنرز نے پیرا کی گاڑیاں اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کر رکھی ہیں، جو اتھارٹی کی طے شدہ پالیسی کے منافی ہے۔