لاہور میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی، 11 خواتین سمیت 42 افراد گرفتار
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے لاہور زون نے غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف تین مقامات پر چھاپے مار کر 11 خواتین سمیت 42 افراد کو حراست میں لے لیا۔ کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ، موبائل فون اور سرور سسٹم قبضے میں لیے گئے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق یہ کارروائیاں گارڈن ٹاؤن، گلبرگ اور او پی ایف سوسائٹی میں ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور زون عاطف امیر کی ہدایات پر کی گئیں۔ گارڈن ٹاؤن میں چھاپے کے دوران 12 مردوں اور 10 خواتین سمیت 22 افراد گرفتار ہوئے، جبکہ وہاں سے 19 لیپ ٹاپ، ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور 24 موبائل فون برآمد کیے گئے۔
گلبرگ میں کارروائی کے نتیجے میں 6 مردوں اور ایک خاتون سمیت 7 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس مقام سے 28 لیپ ٹاپ اور 12 موبائل فون تحویل میں لیے گئے۔ اسی طرح او پی ایف سوسائٹی میں چھاپے کے دوران مزید 13 افراد گرفتار ہوئے، جبکہ 20 لیپ ٹاپ، 14 موبائل فون اور دو سرور سسٹم برآمد کیے گئے۔ مجموعی طور پر تینوں مقامات سے 67 لیپ ٹاپ، ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، 50 موبائل فون اور دو سرور سسٹم قبضے میں لیے گئے۔
حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کال سینٹرز کے ذریعے امریکی شہریوں سمیت بیرونِ ملک صارفین کو موبائل فون اپ گریڈ کرنے، ٹیلی کام پیکجز اور سم سے متعلق خدمات فراہم کرنے کے بہانے دھوکہ دیا جاتا تھا۔ مبینہ طور پر بعض افراد امریکی ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندے بن کر صارفین سے رابطہ کرتے اور ان کی مالی معلومات حاصل کرنے کے بعد غیر مجاز لین دین کے ذریعے رقم وصول کرتے تھے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ گارڈن ٹاؤن سے برآمد ہونے والے ڈیجیٹل مواد کی ابتدائی جانچ میں ڈائلر سافٹ ویئر اور مشتبہ سرگرمیوں سے متعلق معلومات سامنے آئی ہیں۔ تمام ضبط شدہ آلات کو مزید فرانزک تجزیے کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار افراد کے کردار، مبینہ مالی لین دین اور اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے کہا کہ بیرونِ ملک صارفین کو ٹیلی مارکیٹنگ کی آڑ میں مالی دھوکہ دہی کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔