خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دور کے 76 قوانین کا جائزہ لینے کا فیصلہ
خیبرپختونخوا حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے سابق دورِ اقتدار میں صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے قوانین کا ازسرِنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس عمل کے تحت مجموعی طور پر 76 قوانین کا جائزہ لیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق محکمہ قانون نے اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جسے سات روز کے اندر اپنی سفارشات متعلقہ حکام کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جائزے میں صوبے کے 20 مختلف محکموں سے متعلق قانون سازی شامل ہوگی۔
جائزے کے دائرہ کار میں پراسیکیوشن، جامعات، میڈیکل ٹیچنگ اداروں، صوبائی اسمبلی کے اختیارات اور ارکان کی مراعات سے متعلق قوانین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا پراسیکیوشن سروس ترمیمی ایکٹ 2025 کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی قوانین پر نظرثانی کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن قوانین میں غلطیاں یا خامیاں پائی گئیں، انہیں تبدیل کیا جائے گا۔