محسن نقوی کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید، بلیو پاسپورٹ اور ویزا فری انٹری سے متعلق بھی اہم بیان
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) اور مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے پر جے یو آئی نے حد عبور کی ہے اور اب اسے جواب دیا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان گزشتہ چند ہفتوں سے ان پر تنقید کر رہے تھے، تاہم وہ ایران کے معاملے پر کسی ذاتی خواہش کے تحت نہیں بلکہ وزیراعظم کی ہدایت پر گئے تھے۔ انہوں نے ایران میں کسی معاہدے کے طے پانے کی خبروں کو غلط قرار دیا۔
وزیر داخلہ کے مطابق ریاست کو ماں کہنے کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے صرف فائدہ حاصل کیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض افراد مذہب کو سیاست اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ریاست کے خلاف حد سے بڑھے گا تو اسے جواب دیا جائے گا۔
محسن نقوی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے معاملے پر جے یو آئی کے رہنماؤں نے خود حکومت سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ریاست کی جانب سے انہیں مالی فوائد یا ٹکٹ ملنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
بلیو پاسپورٹ اور ویزا فری انٹری سے متعلق اہم پیش رفت
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں محسن نقوی نے بلیو پاسپورٹ اور پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ کے حوالے سے حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، جبکہ آئندہ چھ ماہ کے دوران پاکستانی گرین پاسپورٹ کی درجہ بندی میں بہتری کی توقع ہے۔ ان کے مطابق کینیا، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی کے ساتھ بلیو پاسپورٹ پر معاہدوں کے لیے بات چیت جاری ہے، جبکہ تقریباً 25 ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری کے معاملات بھی آئندہ چھ ماہ میں آگے بڑھنے کی امید ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ویزا فری انٹری کے انتظامات کیے جا چکے ہیں، جبکہ قطر کے ساتھ بھی اس حوالے سے پیش رفت متوقع ہے۔
محسن نقوی کے مطابق پاکستان میں بلیو پاسپورٹس کی تعداد تقریباً 70 ہزار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ممالک پاسپورٹس کی تعداد زیادہ ہونے پر ایسے معاہدے ختم کرنے کی بات کرتے ہیں، اسی لیے اس معاملے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 22 ہزار بلیو پاسپورٹس منسوخ کیے جا چکے ہیں اور فی الحال نئے بلیو پاسپورٹس کے اجرا پر پابندی عائد ہے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ موجودہ ارکانِ قومی اسمبلی کو ان کی مدتِ رکنیت کے مطابق بلیو پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق پاسپورٹ کے نظام میں بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے ای پاسپورٹ کی طرف بھی پیش رفت کی جا رہی ہے۔