ایران سے پاکستان کو 204 میگاواٹ بجلی کی فراہمی، 12 ملین ڈالر واجب الادا، قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کراتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران سے پاکستان کے مکران ریجن کو 204 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بجلی کی درآمد کے عوض ایران کو 12 ملین ڈالر کی ادائیگی ابھی باقی ہے۔

تحریری جواب کے مطابق پاکستان ایران سے چار سرحدی ٹرانسمیشن لائنوں کے ذریعے بجلی حاصل کرتا ہے۔ اس فراہمی سے گوادر، تربت، پنجگور، تمپ، جیوانی، پسنی اور مکران کے دیگر علاقوں کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ وزیر توانائی نے بتایا کہ ایران سے درآمد ہونے والی بجلی کے نرخ نیپرا سے منظور شدہ ہیں۔

اویس لغاری کے مطابق ایرانی بجلی کی ادائیگی کی ذمہ داری سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) پر عائد ہوتی ہے، جبکہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین بل ادا کرنے کے پابند ہیں۔ ان علاقوں میں بجلی کے بلوں کی وصولی کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کرتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان کے متعلقہ علاقوں میں لائن لاسز کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ چار انٹرکنکشن لائنوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ 204 میگاواٹ بجلی درآمد کی جا سکتی ہے۔ مکران ریجن کو قومی بجلی کے نظام سے منسلک کرنے کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ طویل ٹرانسمیشن لائنوں اور وولٹیج سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے مختلف اقدامات زیر غور ہیں۔

آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹس اور بجلی کی پیداوار

اویس لغاری نے قومی اسمبلی میں آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کو ادائیگیوں اور بجلی کی پیداوار کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق مالی سال 2024-25 میں بجلی گھروں کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1,669 ارب روپے ادا کیے گئے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں یہ رقم 1,711 ارب روپے رہی۔

وزیر توانائی نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 میں بجلی کی پیداوار 127,046 گیگاواٹ آور ریکارڈ کی گئی، جو 2025-26 میں بڑھ کر 128,540 گیگاواٹ آور ہوگئی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ معاہدوں کے تحت بجلی گھروں کو کیپسٹی پیمنٹس اس لیے دی جاتی ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ بجلی پیدا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ضروری آئی پی پیز کے معاہدے ختم کرکے صارفین پر مالی بوجھ کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

گردشی قرضہ 1,675 ارب روپے تک پہنچ گیا

تحریری جواب میں بتایا گیا کہ 30 جون 2026 تک سی پیک کے تحت بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے ذمے تقریباً 400 ارب روپے واجب الادا تھے۔ وزیر توانائی کے مطابق روپے کی قدر میں کمی سے ڈالر سے منسلک قرضوں اور منافع کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ 30 جون 2026 تک بجلی کا گردشی قرضہ بڑھ کر 1,675 ارب روپے ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق اس قرضے میں اضافے کی بڑی وجوہات میں بجلی کی ترسیل کے دوران زیادہ نقصانات، بلوں کی کم وصولی اور مالی اخراجات شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مہنگے آئی پی پیز کے معاہدوں کے خاتمے کے ساتھ ہائبرڈ ٹیک اینڈ پے ماڈل متعارف کرایا گیا ہے۔ بجلی کے معاہدوں میں تاخیر سے ادائیگی پر عائد سود میں رعایت دی گئی، جبکہ سود کی شرح اور روپے کی قدر میں کمی کے اثرات کو بھی منجمد کیا گیا ہے۔