عباس عراقچی کا امریکی تجاویز پر غور، شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے سامنے سات روزہ منصوبہ پیش کر چکا ہے، جس پر امریکی حکام نے بعض اعتراضات اور تجاویز دی ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی حکام ان نکات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

بغداد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اگر امریکا مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا طریقہ واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی شرائط تسلیم کرلی جائیں تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھولی جاسکتی ہے، جبکہ ساتویں روز مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ تہران کی جانب سے پیش کردہ شرائط نہ غیر معمولی ہیں اور نہ ہی غیر معقول۔ ان کے مطابق یہ وہی شرائط ہیں جن کی پابندی کا امریکا اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت وعدہ کرچکا تھا۔

عباس عراقچی نے دفاعی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران ماضی کی جنگوں کے مقابلے میں اب اپنے دفاع کے لیے کہیں زیادہ تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا اور اس کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران سفارت کاری، دانش مندی اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، تاہم اگر اس پر حملہ کیا گیا تو ملک اپنی حفاظت کے لیے بھرپور جواب دے گا۔