کیا چیٹ جی پی ٹی آپ کا ڈیٹا بیچ رہا ہے؟ چونکا دینے والی حقیقت

چیٹ جی پی ٹی کو چلانے والی مرکزی کمپنی کا صارفین کی معلومات فروخت کرنے کا فیصلہ، اور ممکنہ خطرات

حال ہی میں چیٹ جی پی ٹی کو تیار اور چلانے والی مرکزی کمپنی نے کچھ اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ خاص طور پر فری صارفین کے لیے صارفین کی معلومات فروخت کرنے اور اس کے استعمال کے حوالے سے۔ اس وجہ سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کی چیٹس کو اشتہارات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

صارفین کی معلومات فروخت کیا ہے؟

صارفین کی معلومات فروخت سے مراد وہ ڈیٹا ہے جو صارف کے براؤزر یا ڈیوائس میں محفوظ ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا اس کی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے کمپنی صارف کے مطابق مواد اور اشتہارات دکھاتی ہے۔ نتیجتاً تجربہ زیادہ ذاتی ہو جاتا ہے۔

نئی تبدیلی میں کیا شامل ہے؟

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نئی تبدیلی کے مطابق فری صارفین کی سرگرمیوں کی بنیاد پر مواد دکھایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی کمپنی اپنی خدمات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم کمپنی یہ بھی کہتی ہے کہ ذاتی چیٹس کو براہ راست اشتہارات کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔

کیا ذاتی چیٹس اشتہارات کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں؟

کمپنی کے مطابق، صارفین کی نجی گفتگو کو اشتہاری کمپنیوں کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح چیٹ کی اصل گفتگو کو بھی اشتہارات کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔

لیکن دوسری طرف کچھ ماہرین مختلف رائے رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چیٹ کے انداز سے صارف کی دلچسپیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نتیجتاً مستقبل میں اشتہارات زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔ اس طرح بالواسطہ طور پر صارف کو اس کی پسند کے مطابق مواد مل سکتا ہے۔

ممکنہ خطرات

اس کے باوجود کچھ خطرات موجود ہیں۔ سب سے پہلے، صارف کی آن لائن سرگرمیوں سے اس کا پروفائل بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صارف کو یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس کا کون سا ڈیٹا استعمال ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ مستقبل میں پالیسی بدلنے سے ذاتی چیٹ کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ نتیجتاً اگر صارفین کا اعتماد کم ہو جائے تو یہ ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

نتیجہ

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مرکزی کمپنی کا کہنا ہے کہ ذاتی چیٹس کو براہ راست اشتہارات کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ تاہم صارفین کی معلومات فروخت اور ڈیٹا کے تجزیے نے پرائیویسی کے بارے میں سوالات ضرور پیدا کیے ہیں۔ لہٰذا مستقبل میں یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ صارفین کا ڈیٹا کس حد تک محفوظ رکھا جاتا ہے۔


بیرونی لنکس (مزید معلومات کے لیے)

https://openai.com/policies/privacy-policy/
https://openai.com/policies/
https://www.wired.com/story/openai-chatgpt-privacy-data/
https://www.reuters.com/technology/ai-privacy-concerns-chatgpt-2024-2025/