علیمہ خان کا عدالتوں سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ، مقدمہ ختم کرنے یا فیصلہ سنانے کی استدعا
بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ ججز انصاف کی فراہمی کی کوشش کررہے ہیں، تاہم ان کے بقول حکومت عدالتی احکامات پر عمل نہیں کرتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی ادارے سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کے معاملات کا سامنا کررہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عدالتوں کو معلوم ہے کہ اگر بروقت انصاف نہ دیا گیا تو اس کے منفی اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاجواز سزائیں دینا خود ایک غلط عمل ہوگا۔
علیمہ خان کے مطابق انہیں متعدد مرتبہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ عدالت میں پیش نہ ہوتیں تو ان کے فوری گرفتاری وارنٹ جاری ہوسکتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے 11 مرتبہ وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، جبکہ شناختی کارڈ بلاک کرنے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے جیسے اقدامات بھی کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے ان کے مقدمے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ علیمہ خان نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ ان کے کیس کا فیصلہ کیا جائے، انہیں سزا دی جائے یا پھر مقدمہ ختم کردیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تقریباً ایک ماہ سے پراسیکیوشن ان کے مقدمے کی پیروی سے گریز کررہی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج کے استعفے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جج نے واٹس ایپ پیغامات کی بنیاد پر فیصلے کرنے سے انکار کیا تھا۔ علیمہ خان کے مطابق جو جج آئین اور قانون کے مطابق کام کرتے ہیں، انہیں دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
علیمہ خان نے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ملک کو بدعنوانی اور لوٹ مار کی طرف دھکیلا جارہا ہے، جبکہ مشکل حالات پیدا ہونے پر حکمران بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔
اس موقع پر وکیلِ صفائی فیصل محمود ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج علیمہ خان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، تاہم عدالت نے اگلی تاریخ 22 ستمبر مقرر کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل پراسیکیوٹر کے ساتھ بیٹھ کر مشاورت کریں گے اور کوشش ہوگی کہ سماعت کی تاریخ کم کرائی جائے۔
وکیل نے دعویٰ کیا کہ علیمہ خان کے خلاف مقدمے میں قابلِ ذکر شواہد موجود نہیں اور اسے بے بنیاد کیس قرار دیا۔ ان کے مطابق پراسیکیوشن بھی مقدمے کو آگے بڑھانے سے گریز کررہی ہے، اس لیے عدالت کو علیمہ خان کو باعزت بری کرنا چاہیے۔
فیصل محمود ملک نے پنجاب حکومت پر بھی الزام عائد کیا کہ صوبے میں قوانین کے ساتھ من مانی کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کو صرف بانی پی ٹی آئی کی بہن ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے اور مقدمہ اپنی بنیاد کھوچکا ہے۔
وکیلِ صفائی نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ کیس میں مزید تاخیر کے بجائے فوری فیصلہ کیا جائے۔