علی امین گنڈاپور کی سلمان اکرم راجہ سے متعلق مبینہ آڈیو لیک، پی ٹی آئی کے اندر اختلافات پھر زیرِ بحث
پاکستان تحریک انصاف کے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے حوالے سے مبینہ آڈیو ریکارڈنگ سامنے آ گئی ہے، جس میں وہ حکومت کے خاتمے اور موجودہ سیاسی مشکلات کا ذمہ دار سلمان اکرم راجہ کی حکمتِ عملی کو قرار دیتے سنائی دیتے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق آڈیو ریکارڈنگ میں علی امین گنڈاپور اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان اختلافات اور سخت جملوں کے تبادلے کا ذکر ہے۔ ریکارڈنگ میں گنڈاپور مبینہ طور پر سلمان اکرم راجہ کی منصوبہ بندی پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پارٹی کو ان کی حکمتِ عملی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مبینہ آڈیو میں علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ سلمان اکرم راجہ کو نہ مکمل اختیارات مل سکے اور نہ ہی وہ اپنی ذمہ داریوں کے مطابق نتائج دے سکے۔ انہوں نے سلمان اکرم راجہ کے ایک حالیہ ٹوئٹ پر بھی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے اسے حذف کرنے، الزامات کی وضاحت دینے اور معذرت کرنے کا مطالبہ کیا۔
گنڈاپور نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سلمان اکرم راجہ کو متعدد مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے بلایا گیا، تاہم وہ شریک نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق وہ صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی وجہ سے سلمان اکرم راجہ کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سلمان اکرم راجہ کو پارٹی کے حوالے سے ایسی باتیں کون بتا رہا ہے۔
دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے اپنے ٹوئٹ اور بیان میں پارٹی کے اندرونی معاملات اور خیبرپختونخوا حکومت سے متعلق مؤقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں باہمی اتفاقِ رائے کو غیر جمہوری انداز میں متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے 68 ارکان نئے وزیراعلیٰ کا اعلان کرنے جا رہے ہوں اور انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے رابطہ ختم کر دیا ہو۔ انہوں نے پشاور سمیت مختلف علاقوں کے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی مبینہ سازشی بیانیے پر یقین نہ کریں۔
سلمان اکرم راجہ نے اپنے مؤقف میں مزید کہا کہ سہیل آفریدی آئین اور قانون کے مطابق اب بھی وزیراعلیٰ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنید اکبر کو بانی پی ٹی آئی نے خود صوبے میں پارٹی صدر مقرر کیا تھا، جبکہ ان کی عدم موجودگی میں علی اصغر قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
تاحال مبینہ آڈیو ریکارڈنگ کی آزادانہ تصدیق سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، اس لیے اس میں موجود گفتگو اور الزامات کو متعلقہ فریقین سے منسوب کرتے ہوئے دیکھا جانا چاہیے۔