اسد قیصر کا یو اے ای میں پاکستانیوں کے ساتھ رویے پر اظہارِ تشویش
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے متحدہ عرب امارات کو پاکستان کا برادر اسلامی ملک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط اور بہتر ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق یو اے ای کی ترقی میں پاکستانی کمیونٹی کا بھی نمایاں کردار ہے۔
پارلیمنٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسد قیصر نے بتایا کہ حالیہ سفر کے دوران انہیں متحدہ عرب امارات میں پیش آنے والی صورتحال پر مایوسی ہوئی۔ ان کے مطابق پرواز منسوخ ہونے کے بعد وہ ہوٹل میں قیام کرنا چاہتے تھے، تاہم وہاں پاکستانی مسافروں کے ساتھ مبینہ طور پر مناسب رویہ اختیار نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ایسا اعلان بھی سننے میں آیا جس کے مطابق صرف بھارتی اور امریکی پاسپورٹ رکھنے والے مسافروں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اسد قیصر کے مطابق انہوں نے اس طرزِعمل پر احتجاج کیا اور اسے پاکستان اور پاکستانی شہریوں کے لیے نامناسب قرار دیا۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات موجود ہیں، اس لیے متعلقہ حکام کو اس معاملے کو سفارتی ذرائع سے یو اے ای حکام کے سامنے اٹھانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستانی عوام اماراتی حکومت اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ احترام اور محبت کا رشتہ رکھتے ہیں۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ انہیں دیگر پاکستانیوں کی جانب سے بھی ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے دفتر خارجہ اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی شہریوں کے ساتھ پیش آنے والے اس طرزِعمل کا معاملہ متعلقہ اماراتی حکام کے ساتھ باضابطہ طور پر زیرِ بحث لایا جائے۔
انہوں نے پاکستان کے سفارتی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے دوران پاکستان نے مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی، اس لیے باہمی احترام اور سفارتی تعاون برقرار رہنا چاہیے۔
دوسری جانب اسد قیصر نے سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو بروقت اسپتال منتقل کرکے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج کی سہولت دینا ان کے بنیادی، آئینی اور قانونی حقوق سے متعلق اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالتی حکم پر فوری اور مکمل عملدرآمد کیا جائے گا اور عمران خان کو معیاری طبی سہولیات کے ساتھ اپنے ذاتی معالجین، اہلخانہ اور سیاسی رفقا سے ملاقات سمیت دیگر جائز حقوق بھی فراہم کیے جائیں گے۔