انفارمیشن وارفیئر کے دور میں مؤثر بیانیہ ناگزیر ہے.عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں معلوماتی جنگ اور بیانیے کی کشمکش کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ عوامی تاثر کو زمینی حقائق کے مطابق رکھا جائے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ 2017 میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی گئی۔ ان کے مطابق وفاقی و صوبائی حکومتوں، پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کوششوں کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں کیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ معرکہ حق کے دوران بھی پاکستان نے معلوماتی محاذ پر مؤثر حکمت عملی اپنائی اور پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کا جواب دیا۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش نے پاکستانی مؤقف کو مزید مضبوط کیا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ اس دوران پاکستانی میڈیا نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق سامنے رکھنے کی کوشش کی، جبکہ ان کے مطابق بھارتی میڈیا کے ایک حصے نے پاکستان کے خلاف منفی اور گمراہ کن بیانیہ آگے بڑھایا۔

انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 90 ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان کے مطابق معاشرے کے مختلف طبقات نے اس جنگ میں اپنا کردار ادا کیا اور پاکستان اب بھی دہشتگردی کے خلاف سرگرم عمل ہے۔

وفاقی وزیر نے بلوچستان کی ترقی کو بھی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بلوچستان کے حقوق، ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے پرعزم ہیں۔

عطا تارڑ نے مزید بتایا کہ این-25 شاہراہ کی بہتری کے لیے وزیراعظم کی جانب سے فنڈز فراہم کرنے کے فیصلے کی بھی وسیع حمایت کی گئی ہے، جس سے بلوچستان میں سفری اور مواصلاتی سہولیات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔