پنجاب میں بارش کے بعد چند گھنٹوں میں پانی نکال دیا جاتا ہے.عظمیٰ بخاری
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سندھ حکومت کو بارشوں سے نمٹنے کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں شدید بارشوں کے باوجود انتظامیہ نے چند گھنٹوں کے اندر پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا۔
اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اس بار لاہور، گجرات اور راولپنڈی میں غیر معمولی اور ریکارڈ بارشیں ہوئیں، تاہم راولپنڈی میں بارش کے بعد کئی دن انتظار کرنے کے بجائے انتظامیہ نے چند گھنٹوں میں صورتحال معمول پر لانے کے اقدامات کیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ میڈیا عوام کے سامنے واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ بارش کے دوران کون سی حکومت متحرک انداز میں کام کرتی ہے اور کون سی انتظامیہ پانی جمع ہونے کے بعد مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہتی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کراچی میں بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں ہر سال شدید بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسائل سامنے آتے ہیں، لیکن طویل عرصے سے اقتدار میں موجود سندھ حکومت اس مسئلے کو مستقل طور پر حل نہیں کرسکی۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں واسا کا نظام وسیع کیا اور بڑی تعداد میں نئی مشینری فراہم کی، جس کے نتائج حالیہ بارشوں کے دوران بھی نمایاں ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پانی کی نکاسی کے لیے بارش رکنے یا پانی قدرتی طور پر خشک ہونے کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ متعلقہ ادارے فوری طور پر فیلڈ میں پہنچ کر کارروائیاں کرتے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے سندھ حکومت کو مشورہ دیا کہ میڈیا پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی انتظامی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے کے باوجود اپنی کمزوریوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔