بلوچستان میں شناختی کارڈز کی بندش کا تعلق علاقائی سیاست سے نہیں، طلال چوہدری

سینیٹ کے اجلاس میں بلوچستان میں شناختی کارڈز بلاک کیے جانے کا معاملہ زیرِ بحث آیا، جہاں سینیٹر جان محمد نے اس حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وضاحت کی کہ شناختی کارڈز کی بندش کا تعلق علاقائی سیاست سے نہیں بلکہ غیر ملکیوں، خصوصاً افغان شہریوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نادرا کے 100 ملازمین کے خلاف بھی فوجداری کارروائی شروع کردی گئی ہے، جن پر رشوت لے کر جعلی خاندانی ریکارڈ تیار کرنے کا الزام ہے۔

سینیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ رخشان اور مکران ڈویژن کی مجموعی 29 لاکھ آبادی میں سے صرف 8 ہزار 829 شناختی کارڈ بلاک کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان بھر میں بلاک کیے گئے ایک لاکھ 38 ہزار 166 شناختی کارڈ افغان شہریوں کے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بعض افراد نے رشوت کے عوض اپنے خاندانی ریکارڈ میں شامل کرایا تھا۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو بیرونِ ملک سے اس معاملے پر سنگین شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ ان کے مطابق عمان اور سعودی عرب سمیت بعض ممالک نے پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کرنے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم میں ملوث عناصر کی وجہ سے بیرونِ ملک مقیم ایک کروڑ قانونی پاکستانیوں کے مستقبل کو خطرات لاحق ہو رہے تھے۔

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد ہنرمند پاکستانیوں کو بیرونِ ملک روزگار کے لیے بھیجنا ہے، نہ کہ جرائم پیشہ افراد کو۔ ان کے مطابق حکومتی اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد میں 64 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

پاسپورٹ فیسوں میں اضافے اور سفری پابندیوں سے متعلق سوالات پر وزیرِ مملکت نے مؤقف اختیار کیا کہ پاسپورٹ فیسوں میں کئی برس بعد اضافہ کیا گیا ہے اور اس کے باوجود یہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ فیسوں سے متعلقہ ادارے کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں