حکومت کو گھر بھیجنے کا نوٹیفکیشن قبول نہیں، بیرسٹر گوہر، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کا اعلان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ وہ حکومت کو گھر بھیجنے سے متعلق کسی نوٹیفکیشن کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں دہشتگردی نہیں ہونی چاہیے اور اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہوں نے اور محمود خان اچکزئی نے ٹرین حادثے کی مذمت کی تھی۔ انہوں نے کالعدم تنظیم بی ایل اے کے حوالے سے بھارت پر الزامات بھی عائد کیے۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق مذاکرات کے دوران پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے ان سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس موقع پر اعتراض اٹھایا کہ مذاکرات میں سیاسی معاملات پر بات ہونی چاہیے تھی، لیکن گفتگو کے دوران دہشتگردی کا معاملہ سامنے آگیا۔

دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ہونے والی بعض باتیں منظرِ عام پر نہیں آنی چاہییں تھیں۔

بیرسٹر گوہر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مذاکرات کے دوران ہونے والی اندرونی گفتگو کو باہر لانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ان کی جماعت کے پاس بھی مذاکرات میں ہونے والی باتیں عوام کے سامنے رکھنے کا حق موجود ہے۔