بلاول بھٹو کا دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر زور، ایمرجنسی کے خاتمے کو حکومتی تعاون سے مشروط قرار دے دیا
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت کا ساتھ دے تو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ختم کرنے کی راہ نکل سکتی ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف کامیابی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر اقدامات کرنا ہوں گے۔
کراچی میں یادگارِ شہدائے کارساز پر حاضری کے بعد کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے کی قیادت دہشتگردی کے مقابلے میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی جانیں مسلسل ضائع ہو رہی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کارساز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون کے لیے تیار ہے اور اسی مؤقف کے تحت وفاقی حکومت کے گورنر راج سے متعلق فیصلے کی حمایت کی گئی۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ان کی جماعت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کی حمایت کی ہے اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق گورنر صوبے میں وفاقی حکومت کے آئینی نمائندے کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہے۔
بلاول بھٹو نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی اپیل کی کہ وہ دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سیاسی معاملات پر تنقید کا حق رکھتے ہیں، تاہم دہشتگردی کی مذمت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کوشش کریں تو گورنر راج کے خاتمے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں قومی پرچم اتارنے یا انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق دہشتگردی کو سنجیدگی سے نہ لینے کے نتائج پورے ملک کو بھگتنا پڑتے ہیں، اسی لیے تمام علاقوں میں دہشتگردی کے خلاف مربوط کوششیں ضروری ہیں۔
ماضی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے پہلے بھی دہشتگردوں کو شکست دی تھی، لیکن بعد میں کیے گئے بعض فیصلوں کے نتیجے میں انہیں دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں قید بعض دہشتگردوں کی رہائی اور ان کی دوبارہ آبادکاری کے فیصلوں کے اثرات آج سامنے آ رہے ہیں۔
اپنے خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی پیپلزپارٹی کے اس حوالے سے مؤقف سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ گلگت بلتستان میں اتفاقِ رائے کے باوجود نئے صوبوں کے قیام پر پیش رفت کیوں نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق آئینی اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اور متعلقہ صوبائی منظوری کے ذریعے نئے صوبے قائم کیے جاسکتے ہیں۔