بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی پر تنقید، دہشتگردی کے خلاف متحد ہونے پر زور
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نے ہنگامی اقدامات سے پہلے سیاسی حل تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم ان کے بقول تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے سیاسی خودکشی کے مترادف قدم اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور وہ ملک میں دہشتگردانہ کارروائیوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا اور کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو جنگ میں ایسی شکست کا سامنا کرنا پڑا جسے وہ آسانی سے فراموش نہیں کر سکے گا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے زور دیا کہ دہشتگردی جیسے چیلنج کا مقابلہ قومی اتحاد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت ہر محاذ پر بیک وقت نہیں لڑ سکتی، اس لیے اہم قومی معاملات پر اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بنیادی مسائل پر سیاسی اتفاق نہ ہونے کی صورت میں ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں بھی دہشتگردوں کا خوف قبول نہیں کیا اور آئندہ بھی ان کے خلاف لڑتے رہیں گے، چاہے یہ جدوجہد تنہا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے لیے دوبارہ پہل کرے، کیونکہ ہنگامی صورتحال کو مستقل بنیادوں پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی سے متعلق دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک جلسے میں دہشتگردی کا مقابلہ نہ کرنے کا حلف لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ آئینی دائرے میں آتا ہے اور موجودہ حالات کی ذمہ داری تحریک انصاف کی صوبائی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہنگامی حالت نافذ کرنے سے قبل حکومت نے سیاسی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم بلاول بھٹو کے مطابق اپوزیشن کو حکومتی اقدامات سے اختلاف کرنے، فیصلوں کی مخالفت کرنے اور پارلیمان میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔