بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے لیے بروقت تشخیص اور ذہنی معاونت ضروری، ماہرین
دنیا بھر میں چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی کا دن منایا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان میں بریسٹ کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اس مرض کے باعث ہونے والی اموات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص، مناسب علاج اور مریضوں کی ذہنی صحت پر توجہ اس بیماری سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر طیبہ کرن نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بریسٹ کینسر سے ہونے والی اموات میں کمی لانے کے لیے مرض کی جلد تشخیص اور فوری علاج ضروری ہے۔ ان کے مطابق علاج کے ساتھ مریضوں کی نفسیاتی کیفیت کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر طیبہ کرن کا کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر میں مبتلا خواتین اکثر خوف، پریشانی، گھبراہٹ اور اداسی جیسی کیفیات سے گزرتی ہیں۔ ایسے حالات میں ان کے جذبات کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں حوصلہ دینا اور علاج کے پورے مرحلے میں ذہنی و جذباتی مدد فراہم کرنا اہم ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بریسٹ کینسر کے مریضوں کی بہتر نگہداشت کے لیے ایسا مربوط نظام ہونا چاہیے جس میں طبی علاج کے ساتھ نفسیاتی معاونت بھی شامل ہو۔ ان کے مطابق بروقت ذہنی مدد مریضوں کی مجموعی کیفیت بہتر بنانے اور علاج کے عمل میں تعاون کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پروفیسر ڈاکٹر ادریس نے سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خواتین کو متاثر کرنے والے سنگین امراض میں شامل ہے، تاہم ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 سے 14 سال کی عمر کی بچیوں کو ویکسین لگوانا اس بیماری سے تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔