چِن اسٹریپ پینگوئنز کی کالونی میں 63 فیصد کمی، موسمیاتی تبدیلی بڑا سبب

انٹارکٹیکا کے قریب واقع ایک دور افتادہ آتش فشانی جزیرے پر چِن اسٹریپ پینگوئنز کی دنیا کی سب سے بڑی کالونی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق 2011 کے مقابلے میں 2025 تک یہاں آباد گھونسلوں کی تعداد میں 63 فیصد کمی ہوچکی ہے۔

برطانوی انٹارکٹک سروے کی قیادت میں کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور سمندری درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ خوراک کی دستیابی میں آنے والی تبدیلیاں چِن اسٹریپ پینگوئنز کی آبادی کو متاثر کررہی ہیں۔

ساؤتھ سینڈوچ جزائر میں واقع زَوودووسکی جزیرہ ایک وقت میں دنیا کی سب سے بڑی پینگوئن کالونی کے طور پر جانا جاتا تھا، تاہم حالیہ تحقیق اور فضائی مشاہدات سے ظاہر ہوا ہے کہ اب یہ جزیرہ یہ اعزاز برقرار نہیں رکھتا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پینگوئنز کی تعداد میں کمی کا موجودہ رجحان جاری رہا تو چِن اسٹریپ پینگوئنز کو مستقبل میں باضابطہ طور پر خطرے سے دوچار نسل قرار دینے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

زَوودووسکی جزیرہ ساؤتھ سینڈوچ جزائر کا حصہ ہے، جو انٹارکٹیکا کے شمال میں واقع انتہائی دور افتادہ جزائر پر مشتمل خطہ ہے اور برطانوی انتظامی علاقے میں شامل ہے۔

برطانوی انٹارکٹک سروے نے 2011 میں زَوودووسکی جزیرے کو دنیا کی سب سے بڑی پینگوئن کالونی قرار دیا تھا۔ اس وقت اندازہ لگایا گیا تھا کہ جزیرے کی چٹانی اور بنجر زمین پر تقریباً 6 لاکھ چِن اسٹریپ پینگوئنز کے ساتھ 90 ہزار میکرونی پینگوئنز بھی گھونسلے بناتے تھے۔

تحقیق میں شامل سائنسدانوں کے مطابق پینگوئنز کی آبادی میں کمی کی اہم وجوہات میں خوراک کے ذرائع میں تبدیلی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندری پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شامل ہے۔

تحقیق کی قیادت کرنے والے پروفیسر نارمن ریٹ کلف کے مطابق چِن اسٹریپ پینگوئنز مخصوص اور محدود غذائی ذرائع پر زیادہ انحصار کرتے ہیں جبکہ ان کی رہائش کے لیے نسبتاً ٹھنڈا سمندری ماحول اہم ہے، جس کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلیاں ان پر زیادہ اثر ڈال رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سمندری پانی گرم ہونے کے نتیجے میں کرِل نامی ننھے سمندری جاندار زیادہ جنوبی علاقوں کی جانب منتقل ہوگئے ہیں۔ پینگوئنز کے لیے خوراک کی تلاش میں اتنا طویل فاصلہ طے کرنا آسان نہیں، جس سے ان کی بقا متاثر ہورہی ہے۔

دوسری جانب دنیا کی سب سے بڑی پینگوئن کالونی کا اعزاز اب زَوودووسکی جزیرے کے بجائے انٹارکٹیکا کے دوسری سمت بحیرہ راس میں واقع کیپ اڈیئر کو حاصل ہوگیا ہے۔ کیپ اڈیئر زَوودووسکی جزیرے سے 5 ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔