یومِ دفاع پر صدر اور وزیراعظم کا شہداء و غازیوں کو خراجِ عقیدت

صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ دفاع و شہدائے پاکستان کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء، غازیوں اور مسلح افواج کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ 1965 کی جنگ میں دفاعِ وطن کے لیے دی جانے والی قربانیاں نئی نسلوں کے لیے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کی مثال ہیں۔ ان کے مطابق ستمبر 1965 والا جذبہ حالیہ معرکۂ حق اور آپریشن بنیانِ مرصوص کے دوران بھی نمایاں طور پر نظر آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ بھارت، طالبان حکومت، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل تلاش کیے بغیر خطے میں مستقل امن قائم کرنا ممکن نہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مسلح افواج کے سربراہان کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے کہا کہ 6 ستمبر ملکی تاریخ کا ایک اہم اور قابلِ فخر دن ہے۔ یہ دن قوم اور افواج کی جانب سے دفاعِ وطن کے لیے دی گئی قربانیوں اور غیر متزلزل عزم کی یاد تازہ کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قومی یکجہتی کے ذریعے ہائبرڈ وارفیئر اور دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بناتا رہے گا۔ انہوں نے مکہ معاہدے کو علاقائی سلامتی کے معاملات میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی علامت بھی قرار دیا۔

قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے بھی مسلح افواج کی غیر معمولی بہادری اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اور فوج کے درمیان مضبوط اتحاد ہی ملک کے تحفظ، استحکام اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔