ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ رواں سال دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے دوران ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے اور بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ سال 2026 کے آغاز سے اب تک سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار 348 آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے۔ ان کے مطابق اسی عرصے میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 819 پاکستانی جان سے گئے، جن میں 303 فوجی اہلکار، 194 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 322 شہری شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ رواں سال 28 خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے بیشتر کے روابط افغانستان سے ملتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹانک اور کراچی میں ہونے والے بعض حملوں میں ملوث عناصر کے افغانستان سے تعلق کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گرد یا تو ہتھیار ڈالیں یا پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کی معاونت کر رہی ہے۔
بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ صوبے کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ریاست آئین اور قانون کے مطابق تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک پر یقین رکھتی ہے اور بلوچستان کے عوام ہی صوبے کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے مطابق ہر شہری کی وفاداری ریاست پاکستان سے ہونی چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں بعض مخصوص عناصر ملوث ہیں، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کرنے اور گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔
لاپتا افراد کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بھی غلط معلومات پھیلائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق لاپتا افراد کمیشن کو اب تک 10 ہزار 901 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے 9 ہزار 372 کیسز نمٹا دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کیسز میں 4 ہزار 896 افراد اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکے ہیں، ایک ہزار سے زائد افراد مختلف جیلوں میں موجود ہیں، جبکہ 308 افراد کے انتقال کی تصدیق ہو چکی ہے۔