اردوان کا مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ موجودہ دور کے بدترین اور غیر انسانی حراستی مراکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں شہادتوں کا سلسلہ جاری رہا اور جاں بحق افراد کی تعداد 1500 سے تجاوز کرچکی ہے۔

ترک صدر نے مغربی کنارے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں یہودی آبادکاروں کی جانب سے تشدد کا سلسلہ برقرار ہے، جبکہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کو ان کے مقدس مقامات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

رجب طیب اردوان کے مطابق فلسطینی مزاحمت نے امن منصوبے سے متعلق رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ پر قبضہ ختم کرنے سے انکار کررہا ہے۔

ترک صدر نے مزید کہا کہ ترکی نے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی اتحاد تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد باہمی اتحاد اور تعاون کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ ان کے مطابق اس تعاون کے ذریعے خطے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے علاقائی سطح پر راستے تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اردوان نے مسئلہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ترکی آزاد فلسطین کے قیام کی حمایت میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔