یورپ میں شدید گرمی سے کاروبار متاثر، معاشی نقصان کے مقابلے میں انشورنس ادائیگیاں نہایت کم

یورپ میں رواں سال مسلسل ہیٹ ویوز کے باعث نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں بلکہ موسمی نقصانات سے نمٹنے کے لیے موجود انشورنس نظام کی محدود صلاحیت بھی نمایاں ہوگئی ہے۔

موڈیز کے تخمینے کے مطابق گزشتہ موسم گرما کے دوران یورپ کو شدید گرمی کی لہروں کے نتیجے میں تقریباً 43 ارب یورو کی معاشی پیداوار کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ اس کے مقابلے میں انشورنس کمپنیوں کی جانب سے صرف لگ بھگ 50 کروڑ یورو کی ادائیگیاں کی گئیں۔

اٹلی کے شہر پادوا میں بھی شدید گرمی نے معمول کی کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ خصوصاً شام کے اوقات میں کیفے اور ریستورانوں کی مقبول ’اپریتیوو‘ سرگرمی پر منفی اثر پڑا۔ ایک سروے میں شامل 600 سے زائد کاروباری اداروں میں سے 80 فیصد سے زیادہ نے بتایا کہ حالیہ ہیٹ ویو کے دوران ان کی آمدنی میں تقریباً 20 فیصد کمی ہوئی۔

ماہرین کے مطابق عام کاروباری انشورنس پالیسیوں میں شدید گرمی کے باعث پیدا ہونے والے بالواسطہ مالی نقصانات اکثر شامل نہیں ہوتے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے ملازمین کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، صارفین کے اخراجات کم ہوجاتے ہیں، ریل سروس میں تاخیر ہوسکتی ہے، زرعی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور صنعتی اداروں کے کولنگ اخراجات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

یورپ میں صرف 28 فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ایسے ہیں جن کے پاس کاروباری تعطل کے خلاف انشورنس موجود ہے، تاہم ماہرین کے مطابق شدید گرمی سے پیدا ہونے والے نقصانات بھی اکثر ان پالیسیوں کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوتے۔

اس صورتحال کے پیش نظر ماہرین پیرامیٹرک انشورنس کو ایک ممکنہ متبادل قرار دے رہے ہیں۔ اس نظام میں درجہ حرارت کسی پہلے سے طے شدہ حد سے تجاوز کرے تو مخصوص شرائط کے تحت متاثرہ کاروبار کو خودکار طور پر ادائیگی کردی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف انشورنس پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ کاروباری اداروں کو بہتر کولنگ سسٹمز، کام کی جگہوں میں موسمی حالات کے مطابق تبدیلیاں اور سپلائی چین کو شدید موسم سے نمٹنے کے لیے زیادہ مضبوط بنانے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔