فواد چودھری کا پنجاب میں گرفتاریوں اور کسانوں کے مسائل پر بیان
سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے پنجاب میں تحریک انصاف کے کارکنان کی گرفتاریوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مختلف اضلاع کی پولیس کو کارکنان کی گرفتاریوں کے اہداف دیے گئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں فواد چودھری نے الزام عائد کیا کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں عام اور کم آمدن والے افراد بھی پولیس کارروائیوں سے متاثر ہورہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض لوگ مبینہ طور پر اپنے مویشی فروخت کرکے پولیس کو رشوت دینے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف صوبے میں پولیس کارروائیوں کی شکایات سامنے آرہی ہیں جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت کی توجہ دیگر معاملات اور بیرونِ ملک دوروں پر مرکوز ہے۔
فواد چودھری نے ملک کو درپیش معاشی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے لیے ڈیزل کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے، جس کے باعث ربیع کی فصلوں، خصوصاً گندم کی کاشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں آئندہ سال گندم کی قلت کا مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے اسکولوں اور کالجوں میں جدید اور ترقی پسند سوچ کو فروغ دینا ضروری ہے، جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔
فواد چودھری نے پختون معاشرے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی تنقید پختون قوم یا اس کی روایات کے خلاف نہیں۔ ان کے مطابق وہ خان عبدالغنی خان اور باچا خان جیسے پختون دانشوروں کی فکری روایات کی بات کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پختون معاشرے میں علم، تعلیم اور خواتین کے احترام کی قابلِ قدر روایات موجود رہی ہیں اور ان روایات کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ فواد چودھری نے قبائلی طرزِ فکر سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے پختون ثقافت اور روایات سے جوڑنا مناسب نہیں۔
سابق وفاقی وزیر نے پختون قیادت اور دانشوروں پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں تعلیم، خواتین کے حقوق اور روشن خیال اقدار کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔