مولانا فضل الرحمان کی تقریر بلیک آؤٹ کرنے پر جے یو آئی کا سخت ردعمل

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے اپنے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اسمبلی میں کی گئی تقریر کو نشر نہ کیے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامی نمائندگی، پارلیمانی روایات، جمہوریت اور آزادیٔ اظہار کے منافی قرار دیا ہے۔

جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری نے اپنے بیان میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر کو بلیک آؤٹ کرنا پارلیمنٹ اور جمہوری اقدار کی توہین ہے۔ ان کے مطابق پارلیمان کو غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے اور جمہوری حکومت آمرانہ طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہے۔

اسلم غوری نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی میں تقاریر پر پابندیاں، انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور انتخابی مہم کے دوران دھمکی آمیز خطوط جیسے معاملات کے ذریعے ملک کو کس سمت لے جایا جا رہا ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت جمہوریت کے نام پر مارشل لا جیسی صورتِ حال قائم کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کو سیاسی طور پر دیوار سے لگانے کی کوشش کرنے والے حقائق کا ادراک کریں۔

ترجمان جے یو آئی نے مزید کہا کہ آئین، پارلیمنٹ، آزادی اور جمہوریت کی اہمیت کو کم کیوں کیا جا رہا ہے؟ ان کے بقول پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعوے کرنے والوں نے خود پارلیمانی ادارے کو مذاق بنا دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاملات کو اس نہج تک نہ پہنچایا جائے کہ بعد میں وضاحتیں دینا مشکل ہو جائیں۔

اسلم غوری نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر جے یو آئی نے برطانوی دور میں ناجائز تسلط قبول نہیں کیا تھا تو وہ موجودہ دور میں بھی کسی کے مبینہ سیاسی مہرے بننے یا ان کے تسلط کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوگی۔

انہوں نے سیاسی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ضرورت کے وقت حمایت حاصل کرنے کے لیے رجوع کرتے ہیں، لیکن اقتدار اور طاقت ملنے پر مخالفین کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اسلم غوری کے مطابق ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگانے والوں نے بھی جمہوری روایات اور اقدار کو نقصان پہنچایا ہے۔