ایف بی آر گوداموں سے 25 کروڑ روپے کے سگریٹس غائب، 8 افراد نامزد
ایف بی آر کے گوداموں سے مبینہ طور پر 25 کروڑ روپے مالیت کے سگریٹس غائب ہونے کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ کیس میں ایف بی آر کے پانچ ملازمین اور ایک نجی کمپنی سے وابستہ تین افراد سمیت مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمہ ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد سفیر احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں ایف بی آر کے انسپکٹر کامران، انسپکٹر نوید، ایک ڈرائیور، سیکیورٹی گارڈ اور نائب قاصد کے علاوہ نجی کمپنی کے دو ڈائریکٹرز اور ایک منیجر کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق فروری 2024 میں صوابی کے علاقے سے سگریٹس کے 1,262 کارٹن تحویل میں لیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں مردان میں قائم ایف بی آر کے ویئر ہاؤس منتقل کردیا گیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق بعد میں انسپکٹرز کامران اور نوید کی نگرانی میں 1,202 کارٹن مردان سے صوابی منتقل کیے گئے، تاہم صوابی کے گودام پہنچنے پر سامان کی گنتی کے دوران 908 کارٹن کم پائے گئے۔
تحقیقات کے دوران گوداموں میں مجموعی طور پر 2,828 کارٹن سگریٹس کی کمی سامنے آنے کا بھی ذکر ایف آئی آر میں کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سگریٹس کی مبینہ خوردبرد میں ایف بی آر کے بعض افسران اور دیگر ملازمین ملوث رہے اور مبینہ طور پر ملی بھگت کے ذریعے قومی خزانے کو تقریباً 25 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق گوداموں میں دانستہ طور پر لاگ بکس مرتب نہیں کیے گئے جبکہ نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب نہیں کیے گئے تھے۔ مزید الزام ہے کہ 908 کارٹن غائب ہونے کے باوجود ایف بی آر کی جانب سے فوری کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی پولیس کو اس معاملے سے آگاہ کیا گیا۔
ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرکے نامزد افراد کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔