ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال، متعدد علاقے زیرِ آب

نارووال کے قصبہ احمد آباد میں سیلابی پانی نے مختلف علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ 20 سے زائد دیہات کو شہر سے ملانے والی سائر باجوہ، نڈالی روڈ پانی میں بہہ جانے سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، جبکہ مقامی افراد کو آمدورفت کے لیے سیلابی پانی عبور کرنا پڑ رہا ہے۔

سیلابی پانی کے باعث سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی زیرِ آب آگئی ہیں، جس سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

سکھر

دریائے سندھ میں کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 16 ہزار 436 کیوسک ریکارڈ کی گئی، جبکہ پانی کی سطح درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچ گئی ہے۔

ادھر دریائے چناب کے ہیڈ قادر آباد پر بھی پانی کی مقدار میں اضافہ جاری ہے۔ یہاں پانی کی آمد 1 لاکھ 46 ہزار 999 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 27 ہزار 474 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

پھالیہ

پھالیہ میں قادرآباد بیراج کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے اور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ حکام کے مطابق پانی کی آمد 1 لاکھ 46 ہزار 999 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 27 ہزار 474 کیوسک ہے۔

ڈپٹی کمشنر عدیل حیدر کے مطابق ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ دریائے چناب کے اطراف رہنے والے شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

سمبڑیال

سمبڑیال میں نالہ ایک متعدد مقامات پر بپھر گیا ہے، جہاں تقریباً 6 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ پانی کی سطح مزید بڑھنے کی صورت میں اسے 7 ہزار کیوسک تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

سیلاب کے باعث بڑی مقدار میں زرعی زمین زیرِ آب آچکی ہے اور فصلوں کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔ بھوپالوالہ، ملکھانوالہ اور ڈھلم بلگن میں صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے، جبکہ پانی نشیبی علاقوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

پانی میں مسلسل اضافے کے باعث مزید زرعی رقبے کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو آمدورفت میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔

وزیرآباد

وزیرآباد میں حالیہ بارشوں کے بعد دریائے چناب میں ایک بار پھر پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے۔ مرالہ، خانکی اور قادرآباد بیراجوں پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔

ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد 1 لاکھ 23 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 6 ہزار 477 کیوسک ریکارڈ ہوا۔

خانکی بیراج پر پانی کی آمد 1 لاکھ 31 ہزار 837 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 24 ہزار 279 کیوسک رہا۔ قادرآباد بیراج پر پانی کی آمد 1 لاکھ 27 ہزار 316 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 7 ہزار 791 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

دیامر

دیامر کی تحصیل چلاس کی وادی نیاٹ میں گلیشیئر پھٹنے کے باعث اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ سیلابی پانی سے گھروں، فصلوں، درختوں اور رابطہ پلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

وادی نیاٹ میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے اور دشوار گزار راستوں کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ جی بی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کردی گئی ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر چلاس منظور احمد پیام کے مطابق متاثرہ علاقے میں صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ، جی بی ڈی ایم اے اور پولیس کے اشتراک سے امدادی کارروائیاں آگے بڑھائی جائیں گی۔

صوابی

صوابی کی تحصیل رزڑ کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ افراد کی مدد شروع کردی۔

خمزہ ڈھیر، منصب دار، مناگئی، ترکئی، قمرگئی اور ڈھنڈوقہ میں ریسکیو اہلکاروں نے کشتیوں اور لائف جیکٹس کی مدد سے متعدد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ متاثرین میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے۔

دوسری جانب ٹوپی کے آزاد خیل میں ایک عمارت گرنے سے چار افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے دو افراد کو زندہ نکال لیا، جبکہ دو افراد جاں بحق ہوگئے۔