فرانس میں پرتشدد مظاہرے جاری، صدر میکرون نے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے
فرانس میں احتجاجی مظاہروں اور بدامنی کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پیرس سمیت مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق صدر ایمانوئل میکرون نے ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال کو سیکیورٹی اداروں کی ناکامی قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بدامنی کے بعد وزیر داخلہ لاراں نونیز نے اپنا استعفیٰ صدر کو پیش کیا، تاہم میکرون نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہروں کے دوران پولیس اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پرتشدد واقعات کے دوران اب تک ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ مظاہروں میں ملوث ہونے کے الزام میں تقریباً 2 ہزار 400 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
فرانس میں تعلیمی اصلاحات کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج نے متعدد شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پیرس میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید تصادم ہوا، جبکہ سرکاری عمارتوں اور کاروباری مراکز کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
مختلف مقامات پر جلاؤ گھیراؤ، پتھراؤ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، تاہم احتجاج اور بدامنی کی صورتحال برقرار رہی۔