عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی بحران کے خدشات

دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں بے چینی پائی جارہی ہے، جبکہ اس کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ملک میں ڈیزل کی قیمت 400 روپے کی سطح سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں بھی اضافے کا رجحان برقرار ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر ڈھائی فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برطانوی برینٹ خام تیل تقریباً 107 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 102 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کررہا ہے۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز کی صورتحال پر خلیجی ممالک کا آج ہونے والا اہم اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔ عمان اور ایران کے مطابق بعض ممالک کی درخواست پر اجلاس کو باہمی اتفاق رائے سے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

امریکی صدر نے ایران سے متعلق سمندری ناکہ بندی کے معاملے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ خلیجی ممالک آبنائے ہرمز کے بارے میں جو بھی اقدامات کریں، اس سے امریکا کے مؤقف پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

خطے میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے ممکنہ بحران کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی ایک اہم آئل پائپ لائن کی بندش عالمی سطح پر تیل کی تقریباً 4 فیصد سپلائی کو متاثر کرسکتی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اگر سعودی عرب بحیرہ احمر کی سمت جانے والی اپنی آئل پائپ لائن کو آئندہ چند روز میں بحال نہ کرسکا تو برآمدات کے لیے دستیاب تیل کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر پر واقع سعودی بندرگاہ ینبع میں صرف تقریباً 5 سے 7 روز کے لیے تیل کا ذخیرہ موجود ہے۔ سعودی عرب اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ لگ بھگ 40 لاکھ بیرل خام تیل ینبع بندرگاہ تک منتقل کرتا ہے، جہاں سے اسے عالمی منڈیوں کے لیے برآمد کیا جاتا ہے۔