حکومت متحرک، مولانا فضل الرحمان سے پی ٹی آئی مذاکرات پر اہم ملاقات
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان بڑھتے سیاسی رابطوں کے تناظر میں وفاقی حکومت بھی متحرک ہوگئی ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں حکومتی وفد نے مولانا فضل الرحمان کو پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں پیدا ہونے والے ڈیڈلاک اور بات چیت کی ناکامی کی وجوہات سے آگاہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مولانا فضل الرحمان کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ سہولت کار کی حیثیت سے انہوں نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور آئندہ بھی سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔
ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
حکومتی وفد نے مولانا فضل الرحمان کو بریفنگ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکراتی عمل میں تعطل کی ذمہ داری حکومت پر عائد نہیں ہوتی۔ ذرائع کے مطابق حکومتی نمائندوں نے بتایا کہ دہشتگردی کے معاملے پر تعاون سے انکار کو مذاکرات کی ناکامی کی اہم وجوہات میں شامل قرار دیا گیا ہے۔
ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔