حافظ نعیم الرحمان کا 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

گوجرانوالہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی حقوق کے لیے اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی اور ملک کے مختلف علاقوں سے کارکن اور شہری دارالحکومت پہنچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بقول لیوی اور بھتہ خوری سے متعلق مسائل کا خاتمہ نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی اپنا احتجاج اسلام آباد کی سڑکوں تک لے جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مارچ کے شرکا مختلف راستوں سے اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت ملک کے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے گوجرانوالہ کے جلسے میں شریک افراد کی بڑی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش بنیادی مسائل پر مؤثر انداز میں بات کرنے کی ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق جماعت اسلامی ملک کے کم آمدن اور محروم طبقات کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک محدود بااثر طبقہ طویل عرصے سے ملکی وسائل اور عوامی حقوق پر اثرانداز رہا ہے۔

انہوں نے جاگیردارانہ نظام اور معاشرتی عدم مساوات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں متعدد افراد اب بھی مناسب تحفظ اور بنیادی سہولیات کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ معاشی تفاوت کے باعث غریب خاندانوں کے بچے اور نوجوان مختلف شعبوں میں سخت محنت کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ بعض بااثر طبقات کے خاندانوں کو بہتر تعلیمی اور معاشی مواقع حاصل ہیں۔

انہوں نے بھٹہ مزدوروں اور دیگر محنت کش طبقات کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی رجسٹریشن کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

اپنے خطاب کے دوران امیر جماعت اسلامی نے نواز شریف، مریم نواز اور حکمران خاندان پر بھی تنقید کی اور ان سے متعلق مختلف الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض صنعتی اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کو ان کے مکمل حقوق نہیں ملتے اور کچھ کارکنوں کی رجسٹریشن بھی نہیں کی جاتی۔

حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب میں خواتین کے خلاف جرائم اور خواتین کو درپیش مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی۔ انہوں نے مریم نواز کے بیرون ملک دورے اور اخراجات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے اور اپنے الزامات کے تناظر میں مزید وضاحت کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی حکمرانوں سے عوامی مسائل، معاشی انصاف، مزدوروں کے حقوق اور دیگر معاملات پر جوابدہی کا مطالبہ کرتی رہے گی۔