اخلاقی زوال اور ضمیر کی خاموشی، غلطی ماننے سے گریز کیوں؟

بندہ تے گلّاں نال ای مر جاندا اے!

ایک بندہ پستول لے کر جا رہا تھا۔ کسی نے پوچھا، ’’بھائی! کدھر جا رہے ہو، بندہ مارنے؟‘‘

کہنے لگا، ’’نہیں یار، سور مارنے جا رہا ہوں؛ بندہ تے گلّاں نال ای مر جاندا اے!‘‘

یہ اُس دور کی بات ہے جب معاشرے میں اخلاقیات بھی ہوتی تھیں، ضمیر بھی جاگتا تھا اور انسان کو اپنی غلطی پر شرمندگی بھی محسوس ہوتی تھی۔ کسی کی بات دل پر لگ جاتی تو انسان اپنی اصلاح کر لیتا تھا۔ اب بعض لوگوں کو ان کی غلطی بتاؤ تو وہ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے الٹا آپ ہی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔

فلسفی ارسطو نے اخلاقی کردار اور شرمندگی کے تصور پر بحث کی۔ ان کے فلسفے کے مطابق شرمندگی انسان کو اپنی غلطی کا احساس دلا سکتی ہے، لیکن اچھے کردار کی اصل بنیاد محض شرمندگی نہیں، بلکہ درست عادات، اخلاقی تربیت اور اچھے فیصلے ہیں۔ اصل کمال یہ نہیں کہ غلطی کرکے شرمندہ ہوا جائے، بلکہ یہ ہے کہ انسان اپنے کردار کو ایسا بنائے کہ غلط کام کرنے سے ہی بچے۔

لارڈ ایکٹن نے اختیار اور بدعنوانی کے تعلق پر مشہور قول کہا تھا کہ اختیار بدعنوانی کی طرف لے جاتا ہے اور مطلق اختیار مطلق بدعنوانی کی طرف۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بااختیار شخص بدعنوان ہوتا ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ جب اختیار کے ساتھ جواب دہی کمزور پڑ جائے تو بدعنوانی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ عہدہ انسان کے کردار کا امتحان بھی ہوتا ہے؛ کوئی اسے خدمت کا ذریعہ بناتا ہے اور کوئی اسے اپنی ذات کی برتری سمجھ بیٹھتا ہے۔

اب ذرا اپنے معاشرے کو دیکھیے۔ بعض کرپٹ افسران سے کوئی سوال کر لو یا ان کی غلطی کی نشاندہی کر دو تو اپنی اصلاح کرنے کے بجائے سوال کرنے والے کو ہی مشکوک بنا دیتے ہیں۔ سامنے والا شریف النفس ہو، نیک نیت ہو، مگر جواب ایسے اعتماد سے ملتا ہے جیسے قصور اسی کا ہو۔ گویا غلطی اپنی، اعتماد اپنا، اور قصور ہمیشہ دوسرے کا!

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے: قانون اور اخلاقیات ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ قانون بنیادی حدود قائم کرتا ہے اور خلاف ورزی پر جواب دہی کا راستہ فراہم کرتا ہے، جبکہ اخلاقی ضمیر انسان کو اپنی ذات کا جائزہ لینے، غلطی ماننے اور اپنی اصلاح کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ قانون موجود ہو تب بھی اخلاقی زوال ممکن ہے، کیونکہ ہر غلط رویّے کو محض قانون کے خوف سے نہیں روکا جا سکتا؛ بہت کچھ انسان کے اپنے ضمیر پر بھی منحصر ہوتا ہے۔

معاشرے کا سب سے خطرناک اخلاقی زوال صرف یہ نہیں کہ لوگ غلط کام کرنے لگیں؛ اصل خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب غلط کام کرنے والے کو اپنی غلطی، غلطی محسوس ہونا چھوڑ دے۔ جب شرمندگی کی جگہ ضد، دلیل کی جگہ عہدے کا غرور اور جواب دہی کی جگہ دوسروں پر الزام آ جائے تو اصلاح کا راستہ بند ہونے لگتا ہے۔

شاید پہلے بھی ایسے لوگ ہوتے تھے، مگر آج ہمارے سامنے ایسے کردار بار بار آتے ہیں جو اپنی غلطی ماننے کے بجائے اتنے اعتماد سے صفائیاں دیتے ہیں کہ سچ بولنے والا بھی اپنی بات پر دوبارہ غور کرنے لگتا ہے۔ شاید یہی ہمارے دور کی نئی کامیابی ہے: غلطی اپنی، اعتماد اپنا، اور قصور ہمیشہ دوسرے کا!

عہدہ بڑا ہونے سے انسان بڑا نہیں ہوتا، اختیار ملنے سے کردار بلند نہیں ہوتا، اور اعتماد سے جواب دینے والا لازماً حق پر نہیں ہوتا۔

معاشرے صرف غلط کاموں سے نہیں گرتے؛ وہ تب بھی گرتے ہیں جب غلط کام کرنے والے کو اپنی غلطی، غلطی محسوس ہونا چھوڑ دے۔

جس معاشرے میں شرمندگی ختم ہونے لگے، وہاں قانون کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے اور اخلاقی تربیت کی اہمیت بھی۔