ایرانی پارلیمان کی مہرداد اخلاقی کتابچی کی بطور وزیر دفاع تقرری کی منظوری
ایران کی پارلیمان نے مہرداد اخلاقی کتابچی کو وزیر دفاع مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، پارلیمان کے 277 ارکان میں سے 237 نے ان کی تعیناتی کے حق میں ووٹ دیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے رواں ماہ کے آغاز میں کتابچی کو وزارتِ دفاع کا قلم دان سونپنے کے لیے نامزد کیا تھا۔ اس سے قبل سابق وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ ایک امریکی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
ایرانی صدر نے پارلیمان سے اپیل کی تھی کہ نئے وزیر دفاع کی نامزدگی کی توثیق کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع کی مضبوطی صرف میزائلوں اور عسکری صلاحیتوں تک محدود نہیں، بلکہ عوامی حمایت اور قومی یکجہتی بھی اس میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، مہرداد اخلاقی کتابچی گزشتہ 42 برس سے وزارتِ دفاع میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہیں اس شعبے کا طویل تجربہ حاصل ہے۔
صدر پزشکیان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو ملک اپنی پوری قوت کے ساتھ آخری دم تک مزاحمت کرے گا۔