ایران میں مار گرائے گئے امریکی طیارے کے اہلکار کی پانچ ماہ بعد ریسکیو ویڈیو جاری

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران میں مار گرائے گئے امریکی جنگی طیارے کے ایک اہلکار کی ڈرامائی ریسکیو کارروائی کی ویڈیو تقریباً پانچ ماہ بعد جاری کردی ہے۔ یہ واقعہ رواں سال اپریل میں پیش آیا تھا۔

جاری کی گئی ویڈیو میں امریکی امدادی ٹیم کی جانب سے طیارے کے عملے کے ایک رکن کو زخمی حالت میں تلاش کرکے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کارروائی دکھائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی ایف 15 ای طیارے میں دو افراد پر مشتمل عملہ موجود تھا۔ طیارہ ایران کے پہاڑی علاقے میں گرائے جانے کے بعد ایک اہلکار کو چند گھنٹوں کے اندر تلاش کرکے بازیاب کرلیا گیا، جبکہ دوسرے اہلکار کو امدادی ٹیم کے پہنچنے تک تقریباً 50 گھنٹے تک ایرانی علاقے میں زخمی حالت میں رہنا پڑا۔

ریسکیو کیے گئے اہلکار کے مطابق پیراشوٹ میں خرابی کے باعث طیارے سے نکلتے وقت اسے شدید چوٹیں آئیں، جس کے نتیجے میں اس کا کندھا اور کمر متاثر ہوئی۔ اس کے باوجود اس نے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش جاری رکھی۔

امریکی افسر نے بتایا کہ وہ تقریباً دو روز تک ایرانی فورسز سے بچنے کے لیے مختلف مقامات پر چھپتا رہا اور اپنی جان بچانے کے لیے تقریباً 7 ہزار فٹ بلند پہاڑی علاقے تک پہنچا۔

بازیاب ہونے والے امریکی کرنل نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود اس نے ایرانی علاقے میں تقریباً دو دن گزارے اور بالآخر امریکی امدادی ٹیم اس تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

امریکی سینٹ کام کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں اس کارروائی کے مختلف مراحل کو دکھایا گیا ہے، جس سے ریسکیو آپریشن کی دشواریوں اور اہلکار کو محفوظ طریقے سے نکالنے کی کوششوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔